آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہیوسف صدیقی

آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اردو کالم از یوسف صدیقی

آمدِ مصطفیٰ ﷺ – انسانیت کے لیے سب سے بڑی خوشخبری

ربیع الاول کا مہینہ امتِ مسلمہ کے لیے خوشی، مسرت اور روحانی سکون کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں کائنات کا سب سے عظیم واقعہ رونما ہوا، یعنی سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت۔ دراصل یہ محض ایک پیدائش نہیں تھی بلکہ وہ انقلاب تھا جس نے دنیا کے نظام کو بدل ڈالا اور انسانیت کو جہالت و ظلمت کی اندھیری رات سے نکال کر علم و ہدایت کی روشنی سے منور کر دیا۔

ولادتِ مصطفیٰ ﷺ سے قبل عرب اور دنیا کا حال انتہائی پست تھا۔ ظلم، ناانصافی اور جاہلیت کا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ طاقتور کمزور کو کچل دیتا تھا، عورت کو ذلت و رسوائی کا سامان سمجھا جاتا تھا، یتیم و مسکین بے سہارا تھے اور خدا کے تصور تک کو مٹا کر بت پرستی عام تھی۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو رحمت للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان کیا: "وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين” (اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے)۔

آپ ﷺ نے انسانیت کو اصل مقصدِ حیات یاد دلایا۔ آپ نے بتایا کہ سب انسان ایک اللہ کے بندے ہیں اور کسی گورے کو کالے پر، کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے۔ مساوات، عدل، بھائی چارہ اور محبت کے وہ اصول آپ ﷺ نے قائم کیے جو قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔

ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی آمد صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا عہد ہے جو ہر مسلمان کے دل پر تازہ ہونا چاہیے۔ آج ہم چراغاں کرتے ہیں، نعت خوانی اور محافل منعقد کرتے ہیں، یہ سب اظہارِ محبت کی خوبصورت صورتیں ہیں، لیکن سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ محبت کا اصل تقاضا آپ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی میں اپنانا ہے۔

حضور اکرم ﷺ کی سیرت کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ زندگی کو رحمت، عدل اور امانت کے اصولوں پر گزارا جائے۔ اگر ہم سچائی، انصاف، ہمدردی اور خدمتِ خلق کو اپنا لیں تو یہی سب سے بڑی عید میلاد ہوگی۔ آج امت مسلمہ مختلف مسائل، پریشانیوں اور آزمائشوں میں مبتلا ہے، اور ان سب کا حل صرف ایک ہے: واپسی سیرتِ طیبہ کی طرف۔

ہمیں چاہیے کہ ربیع الاول کے اس مہینے میں یہ عہد کریں کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں گے۔ اپنی عبادات کو خلوص سے ادا کریں گے، معاملات میں دیانت کو اپنائیں گے، دلوں میں نفرت کے بجائے محبت پیدا کریں گے اور اپنے نبی ﷺ کے امتی ہونے کا عملی ثبوت دیں گے۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی اکرم ﷺ کی محبت نصیب کرے، ان کی سیرت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، اور ہمارے دلوں کو آپ ﷺ کے ذکر سے منور فرمائے۔
اللہم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button