آمدِ مصطفیٰ ﷺ – انسانیت کے لیے سب سے بڑی خوشخبری
ربیع الاول کا مہینہ امتِ مسلمہ کے لیے خوشی، مسرت اور روحانی سکون کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں کائنات کا سب سے عظیم واقعہ رونما ہوا، یعنی سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت۔ دراصل یہ محض ایک پیدائش نہیں تھی بلکہ وہ انقلاب تھا جس نے دنیا کے نظام کو بدل ڈالا اور انسانیت کو جہالت و ظلمت کی اندھیری رات سے نکال کر علم و ہدایت کی روشنی سے منور کر دیا۔
ولادتِ مصطفیٰ ﷺ سے قبل عرب اور دنیا کا حال انتہائی پست تھا۔ ظلم، ناانصافی اور جاہلیت کا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ طاقتور کمزور کو کچل دیتا تھا، عورت کو ذلت و رسوائی کا سامان سمجھا جاتا تھا، یتیم و مسکین بے سہارا تھے اور خدا کے تصور تک کو مٹا کر بت پرستی عام تھی۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو رحمت للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان کیا: "وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين” (اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے)۔
آپ ﷺ نے انسانیت کو اصل مقصدِ حیات یاد دلایا۔ آپ نے بتایا کہ سب انسان ایک اللہ کے بندے ہیں اور کسی گورے کو کالے پر، کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے۔ مساوات، عدل، بھائی چارہ اور محبت کے وہ اصول آپ ﷺ نے قائم کیے جو قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔
ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی آمد صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا عہد ہے جو ہر مسلمان کے دل پر تازہ ہونا چاہیے۔ آج ہم چراغاں کرتے ہیں، نعت خوانی اور محافل منعقد کرتے ہیں، یہ سب اظہارِ محبت کی خوبصورت صورتیں ہیں، لیکن سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ محبت کا اصل تقاضا آپ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی میں اپنانا ہے۔
حضور اکرم ﷺ کی سیرت کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ زندگی کو رحمت، عدل اور امانت کے اصولوں پر گزارا جائے۔ اگر ہم سچائی، انصاف، ہمدردی اور خدمتِ خلق کو اپنا لیں تو یہی سب سے بڑی عید میلاد ہوگی۔ آج امت مسلمہ مختلف مسائل، پریشانیوں اور آزمائشوں میں مبتلا ہے، اور ان سب کا حل صرف ایک ہے: واپسی سیرتِ طیبہ کی طرف۔
ہمیں چاہیے کہ ربیع الاول کے اس مہینے میں یہ عہد کریں کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں گے۔ اپنی عبادات کو خلوص سے ادا کریں گے، معاملات میں دیانت کو اپنائیں گے، دلوں میں نفرت کے بجائے محبت پیدا کریں گے اور اپنے نبی ﷺ کے امتی ہونے کا عملی ثبوت دیں گے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی اکرم ﷺ کی محبت نصیب کرے، ان کی سیرت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، اور ہمارے دلوں کو آپ ﷺ کے ذکر سے منور فرمائے۔
اللہم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم
یوسف صدیقی








