ہر سمت محبت کے حسیں خواب سجے تھے
کتنی ہی دل افروز تھی شروعات ہماری
ہم نے تو چراغوں سے سجائی تھیں وہ راہیں
تقدیر نے لکھ دی مگر اک رات ہماری
ہم جن کے لیے چھوڑ کے آئے تھے زمانہ
وہ لوگ ہی کرتے رہے تضحیک ہماری
پیروں تلے روندی گئیں سب روایات ہماری
دنیا نے بھی پہچانی نہ پھر ذات ہماری
کچھ ایسے زمانے نے بدل ڈالے ہیں چہرے
اب ہم سے بھی ہوتی نہیں پہچان ہماری
اک عمر سے دہلیز پہ امید کھڑی ہے
ہر بار پلٹ جاتی ہے بارات ہماری
ہم خاک ہوئے، پھر بھی کسی کو نہ خبر تھی
کس درد میں گزری ہے یہ حیات ہماری
اب کس سے کہیں، کون سنے، کون سمجھ پائے
خاموشی میں دفن ہو گئی ہر بات ہماری
عمر بھر درد کو اشعار میں ڈھالا ہے، حسنؔ
پھر بھی دنیا نے نہ سمجھی کبھی فریاد ہماری
میر حسن








