آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمیر حسن

کتنی ہی دل افروز تھی شروعات ہماری

میر حسن کی ایک اردو غزل

ہر سمت محبت کے حسیں خواب سجے تھے
کتنی ہی دل افروز تھی شروعات ہماری

ہم نے تو چراغوں سے سجائی تھیں وہ راہیں
تقدیر نے لکھ دی مگر اک رات ہماری

ہم جن کے لیے چھوڑ کے آئے تھے زمانہ
وہ لوگ ہی کرتے رہے تضحیک ہماری

پیروں تلے روندی گئیں سب روایات ہماری
دنیا نے بھی پہچانی نہ پھر ذات ہماری

کچھ ایسے زمانے نے بدل ڈالے ہیں چہرے
اب ہم سے بھی ہوتی نہیں پہچان ہماری

اک عمر سے دہلیز پہ امید کھڑی ہے
ہر بار پلٹ جاتی ہے بارات ہماری

ہم خاک ہوئے، پھر بھی کسی کو نہ خبر تھی
کس درد میں گزری ہے یہ حیات ہماری

اب کس سے کہیں، کون سنے، کون سمجھ پائے
خاموشی میں دفن ہو گئی ہر بات ہماری

عمر بھر درد کو اشعار میں ڈھالا ہے، حسنؔ
پھر بھی دنیا نے نہ سمجھی کبھی فریاد ہماری

میر حسن

post bar salamurdu

میر حسن

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا ہی انتخاب ہے، تعلق منڈی بہاؤالدین، پنجاب سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، مگر اردو سے بھی محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button