آپ کا سلاماردو غزلیاتسردار حماد منیرشعر و شاعری
تمہارے اس سلیقہِ محبّت کا میں شیدائی
سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل
تمہارے اس سلیقہِ محبّت کا میں شیدائی
کہ اس نے مجھ کو بخشی ہے زمانے بھر کی رسوائی
یہ حالِ دل کسی محفل میں بھی اب چھپ نہیں سکتا
ہماری ان نگاہوں سے ہے واضح دل کی تنہائی
سجا سکتا ہوں میں بھی عارضی مسکان چہرے پر
مگر جو درد سینے میں ، ہے مشکل اُس کی پنہائی
ستمگر کاش تجھ کو بھی خدا ایسی بصیرت دے
کہ تجھ کو بھی دِکھائی دے مری الفت کی گہرائی
بہت پچھتاؤ گے دلبر کبھی ہم جب ملیں شاہد
کہ کیسی باوفا ، مخلص سی ہستی ہم نے ٹھکرائی
بھلا دیتے ہیں لمحوں میں کسی کا آچھا برتاؤ
جہاں والوں کو کیسی رب نے دے رکھی ہے بینائی
برا سوچوں ، اذیت دو مجھے سب بھول جائے گا
مجھے بس یاد رہتی ہے صنم لوگوں کی اچھائی
مری باتوں سے حامیؔ اس لیے نفرت ہے لوگوں کو
کہ میں ڈرتا نہیں منہ پر بیاں کرتا ہوں سچائی
سردار حمادؔ منیر







