مری اُداس سی راتوں کا دل نشیں خواب تم ہو
جو دل کی شاخ پہ کھِلتا ہے، گُلِ ماہتاب تم ہو
تمہیں جو سوچ لوں، صحرا میں چاندنی اُترے
گُلِ ماہتاب کی صورت میرا گلاب تم ہو
تمہارے رُخ سے گُلِ ماہتاب ضیا مانگے
کہ حسنِ فطرت کا نایاب انتخاب تم ہو
گُلِ ماہتاب کے معنی تمہی سے سمجھے ہیں
میری محبت کا پہلا اور آخری نصاب تم ہو
میرے دل کے ورق پر گُلِ ماہتاب لکھا ہے
میری اَن کہی محبت کی وہ کتاب تم ہو
تمہارے نام پہ گُلِ ماہتاب جھوم اُٹھے
میری خاموش دھڑکن کا اِک رباب تم ہو
گُلِ ماہتاب پہ شبنم نے جو لکھا چپکے
مرے لبوں سے نہ نکلا، وہی جواب تم ہو
حسنؔ نے گُلِ ماہتاب کہہ کر چھپایا تمہیں
مگر ہر ایک غزل میں تو بے نقاب تم ہو
میر حسن








