اردو غزلیاتڈاکٹر دانش عزیزشعر و شاعری

میرے جیسے اس بستی میں

دانش عزیز کی ایک اردو غزل

میرے جیسے اس بستی میں اور بھی پاگل رہتے ہیں
سب نے آنکھیں گروی رکھ کر آدھے خواب خریدے ہیں

کوئل کوا چیل کبوتر طوطا مینا چڑیا مور
شام ڈھلے سب چپ چپ بیٹھے اک دوجے کو تکتے ہیں

دریا ساگر امبر بادل بارش آندھی دھوپ ہوا
سب تیرا بہروپ ہے سائیں تیرا نام ہی جپتے ہیں

خالی کرسی دو کپ چائے سبزہ خوشبو بوندا باندی
صبح سویرے مجھ سے مل کر تیری باتیں کرتے ہیں

ہجر اداسی وحشت آنسو آوارہ پن بے زاری
شوریدہ دل چاک گریباں سب الفت کے جھگڑے ہیں

ساغرؔ میرؔ فرازؔ اور غالبؔ مومنؔ داغؔ قتیلؔ اور فیضؔ
اوڑھ کے مصرعے نظمیں غزلیں چین سکون سے سوتے ہیں

باتیں یادیں راتیں آنکھیں بانہیں آہیں فریادیں
سونے گھر کے اک کونے میں اکثر مل کر روتے ہیں

چاند ستارے جگنو سورج پریاں جن اڑتے پنچھی
سب دھرتی پر آکر دانشؔ اس کے پاؤں کو چھوتے ہیں

دانش عزیز

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button