اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

گر ناز سے وہ سر پر لے تیغ آ نہ پہنچے

میر تقی میر کی ایک غزل

گر ناز سے وہ سر پر لے تیغ آ نہ پہنچے
منزل کو عاشق اپنے مقصد کی جا نہ پہنچے

جیتے رہیں گے کیونکر ہم اے طبیب ناداں
بیمار ایسے تس پر مطلق دوا نہ پہنچے

لائق ترے نہیں ہے خصمی غیر لیکن
وہ باز کیونکے آوے جب تک سزا نہ پہنچے

ہر چند بہر خوباں سر مسجدوں میں مارے
پر ان کے دامنوں تک دست دعا نہ پہنچے

بن آہ دل کا رکنا بے جا نہیں ہمارا
کیا حال ہووے اس کا جس کو ہوا نہ پہنچے

اپنے سخن کی اس سے کس طور راہ نکلے
خط اس طرف نہ جاوے قاصد گیا نہ پہنچے

وہ میر شاہ خوبی پھر قدر دور اس کی
درویش بے نوا کی اس تک صدا نہ پہنچے

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button