اردو غزلیاتانور شعورشعر و شاعری

اگرچہ اُس سے بچھڑ کر لکھا بہت کچھ ہے

انور شعورکی ایک اردو غزل

اگرچہ اُس سے بچھڑ کر لکھا بہت کچھ ہے
نہیں ہے کام کا کچھ بھی کہا بہت کچھ ہے

زہے نصیب کہ لٹنے کہ بعد بھی گھر میں
سکوت و ظلمت و حبس و بلا بہت کچھ ہے

مرے پڑوس کی تختی بدل گئی پرسوں
ہوا تو کچھ نہیں، لیکن ہوا بہت کچھ ہے

وہ دیکھ ، بام کے اُوپر دھویں کے مرغولے
جلا تو خیر سے کم ہے، بجھا بہت کچھ ہے

اُسے نہ پاؤ گے جب تک مجھے نہ سمجھو گے
مرا رفیقِ مزاج آشنا بہت کچھ ہے

وہ شوق اور وہ شدّت کہاں مگر اب بھی
نگاہِ محو و دلِ مبتلا بہت کچھ ہے

اُسے قریب سے دیکھا کبھی نہیں ہم نے
مگر شعور کی بابت سُنا بہت کچھ ہے

انور شعور

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button