آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

روشن پہاڑیوں سے ادھر کوہ تار میں

سعید شارق کی ایک اردو غزل

روشن پہاڑیوں سے ادھر کوہ تار میں
کب تک پڑا رہوں گا اداسی کے غار میں

کیا جانے کب نکل پڑے کن جنگلوں کی سمت
یہ پیڑ اب نہیں ہے مرے اختیار میں

بیتے دنوں کی دھوپ سمٹنے کی دیر تھی
سایوں نے لے لیا مجھے اپنے حصار میں

بارش برس سکے تو چھٹے نیند کا غبار
آندھی رکے تو میں بھی کھلوں خواب زار میں

نیچے اترتے ہیں نہ کہیں اور جاتے ہیں
میں گھر گیا ہوں کیسے پرندوں کی ڈار میں

ایک ایک کر کے سارے مکیں سو چکے مگر
گھر جاگتا رہے گا مرے انتظار میں

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button