آپ کا سلاماحمد آشنااردو غزلیاتشعر و شاعری

دکانِ حبس میں وہ جالیاں بناتا تھا

ایک اردو غزل از احمد آشنا

دکانِ حبس میں وہ جالیاں بناتا تھا
گھٹن سے مر گیا جو کھڑکیاں بناتا تھا

تباہی یہ اُسی پیپل کی بد دعا سے ہے
کہ جس کے سائے میں تُو آریاں بناتا تھا

تمام خواہشیں تالے لگا کے رکھتا تھا
وہ بے مکاں تھا مگر چابیاں بناتا تھا

کسی نے ریت مصور کی آنکھ میں بھر دی
کبھی جو لال ، ہری تتلیاں بناتا تھا

کھلا کے زہر جسے زائقے کا پوچھا گیا
کبھی مٹھاس بھری ٹافیاں بناتا تھا

جو صبع تین بجے مر گیا خموشی سے
پتا چلا کہ وہی سیٹیاں بناتا تھا

احمد آشنا

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button