- Advertisement -

ہوا کی دستک

تجدید قیصر کی ایک اردو نظم

ہوا کی دستک

دس تک
میں دس تک گنوں گی
وہ ہنستا رہے گا یا چپ ہو کے بیٹھا رہے گا چھپے گا نہیں

ایک : تو یہ کہ اس کو یہ لگتا ہے چھپنا دفاعی عمل ہے جسے جیتنے والوں سے کچھ علاقہ نہیں ہے
دو : پرندوں کے مابین رشتے کو بوڑھے شجر کس طرح دیکھتے ہیں اسے یہ پتہ بھی نہیں ہے
تین : دن تک نوالہ نوالہ مجھے وقت کھاتا رہا تم بھی ڈستے رہے.. ٹھیک ہے
چار : دن کی خوشی چار جیون برابر بھی ہو تو بچھڑنے کی دہری اذیت سے کم ہے
پانچ : سمتوں سے آتا ہوا نم کسی کو بھی پاگل بنا سکتا ہے دوست
چھ : سال کیسے اڑے کھیل ہی کھیل میں ایک ہی ریل میں, میں پہیلی بنی یا سہیلی بنی بوجھو تو جانیں
سات : فرضی عدد ہے اس کا کہانی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے تم اس پہ نہ الجھو
آٹھ : آنے کے ناول نویسوں نے اپنی سہولت کے پیش نظر اس کی ایجاد کی تھی
نو : بجنے میں دس ہی منٹ باقی تھے جب مجھے تم نے بولا
"کہ بس !! اس سے آگے سبھی راستے ایک ہی کھائی میں گرتے ہیں”
سو میں
دس : تک کبھی بھی پہنچ ہی نہیں پائی ہوں

کہانی کے آغاز میں جس جگہ تم ہنسے تھے اور چپ ہو کے بیٹھے رہے تھے
وہ خالی ہوئی تو قوانین فطرت مطابق سبھی منظروں کو ہوا نے برابر کیا
اب میں دس تک گنوں پھر یا سو تک گنوں
کوئی سنتا نہیں ہے
میری دس تک
نہ ہی تجھ ہوا کی
یہ "دستک”

تجدید قیصر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اویس خالد کا ایک اردو کالم