اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

دشت یاد آیا کہ گھر یاد آیا

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

دشت یاد آیا کہ گھر یاد آیا
کوئی کرتا ہوا فر یاد آیا

پھر بجھی شمع جلا دی ہم نے
جانے کیا وقت سحر یاد آیا

ربط باہم کی تمنا معلوم
حادثہ ایک مگر یاد آیا

در و دیوار سے مل کر روئے
کیا ہمیں وقت سفر یاد آیا

قدم اٹھتے نہیں منزل کی طرف
کیا سر راہگزر یاد آیا

ہنس کے پھر راہنما نے دیکھا
پھر ہمیں رخت سفر یاد آیا

کسی پتھر کی حقیقت ہی کیا
دل کا آئنہ مگر یاد آیا

آنچ دامان صبا سے آئی
اعتبار گل تر یاد آیا

دل جلا دھوپ میں ایسا اب کے
پاؤں یاد آے نہ سر یاد آیا

گر پڑے ہاتھ سے کاغذ باقیؔ
اپنی محنت کا ثمر یاد آیا

زندگی گزرے گی کیونکر باقیؔ
عمر بھر کوئی اگر یاد آیا

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button