آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکرن منتہیٰ

صحرا تھا ہم سے دور ، سمندر بھی دور تھا

کرن منتہیٰ کی ایک اردو غزل

ہم چل پڑے تھے ، جسم "شکستوں سے چور تھا”
صحرا تھا ہم سے دور ، سمندر بھی دور تھا

یک لخت دل کو تھام کے بیٹھا ہے آسمان
قطعہ زمیں کا آج جو بھڑکا وہ طور تھا

پاؤں انا کی بیڑیوں نے باندھے تھے مگر
ملنے کے واسطے مجھے آنا ضرور تھا

مجھ کو بلاتی تھی نہ کلی باغ کی طرف
ورنہ دماغِ گل تو بہت ذی شعور تھا

اندھےکو روشنی کی سماعت کہاں ملی
رستہ بتا رہا ہے ہمیں وہ جو عور تھا

پرواز آسمان سے دیکھی نہیں گئی
مٹی میں مل گیا مرا جتنا غرور تھا

چپ چاپ تک رہے ہیں کرن شش جہت کو ہم
اس سے زیادہ ذرہِ دل میں نشور تھا

کرن منتہیٰ

post bar salamurdu

کرن منتہیٰ

کرن منتہیٰ کا تعلق خوشاب سے ہے نسائی لہجے کی توانا شاعرہ ہیں لاہور میں مقیم ہیں جہاں ایک ٹی وی پر اینکر ہیں نوجوان نسل کی نمائندہ شاعرہ ہیں کرن منتہیٰ نے اپنی شاعری اور خوبصورت ادائی سے اپنے ہونے کا بہت توانا اعلان کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button