اردو غزلیاتاکبر الہ آبادیشعر و شاعری

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

غزل از اکبر الہ آبادی

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں
امیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں

مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کی
یہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں

وہی پریاں ہیں اب بھی راجا اندر کے اکھاڑے میں
مگر شہزادۂ گلفام پر شیدا نہیں ہوتیں

یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شک
مگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں

تعلق دل کا کیا باقی میں رکھوں بزم دنیا سے
وہ دل کش صورتیں اب انجمن آرا نہیں ہوتیں

ہوا ہوں اس قدر افسردہ رنگ باغ ہستی سے
ہوائیں فصل گل کی بھی نشاط افزا نہیں ہوتیں

قضا کے سامنے بے کار ہوتے ہیں حواس اکبرؔ
کھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں

اکبر الہ آبادی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button