- Advertisement -

زادِ سفر کو اپنا ارادہ سمجھ لیا

اورنگ زیبؔ کی ایک اردو غزل

زادِ سفر کو اپنا ارادہ سمجھ لیا
منزل سمجھ نہ آئی تو جادہ سمجھ لیا

کیوں ہم نے خود پہ ظلم کیا راہِ شوق میں
کیوں تنگنائے کو بھی کشادہ سمجھ لیا

افسوس مجھ پہ کل بھی عیاں ہو چُکا ترا
افسوس مَیں نے تجھ کو زیادہ سمجھ لیا

آنکھوں کو مَیں نے دل کی تگ و تاز جان کر
اشکوں کو چشمِ نم کا برادہ سمجھ لیا

مَیں نے دعائے مرگ کو ہاتھ اپنے کیا اٹھائے
اُس نے دعا کو میرا ارادہ سمجھ لیا

ناداں تری بساط اُلٹ جائے گی ضرور
تُو نے تو شاہ کو بھی پیادہ سمجھ لیا

پورا سمجھ میں آیا نہیں عشقِ نامراد
آدھا سمجھ میں آیا سو آدھا سمجھ لیا

سب خاک سے بنے ہیں تو اس دشتِ خاک میں
ہم نے بھی خاک ہی کو لبادہ سمجھ لیا

اُس پر تمام راز کھلیں گے جہان کے
محشر کو جس نے وقت کا وعدہ سمجھ لیا

مَیں وہ فقیرِ مست ہوں جس نے بہ فیضِ عشق
رنگین پیرہن کو بھی سادہ سمجھ لیا

اورنگ زیبؔ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اورنگ زیبؔ کی ایک اردو غزل