A True Salam To Urdu Literature

Zameen Mile Kaheen Humein

A Nice Ghazal By Dr Najma Khosa

زمیں ملے کہیں ہمیں، کہیں تو آسماں ملے
دکھوں کی دھوپ میں شجر کوئی تو مہرباں ملے

ترے فراق میں جئے، ترے فراق میں مرے

چلو یہ خواب ہی سہی، وصال کا گماں ملے

الم کی شام آ گئی، لو میرے نام آ گئی

چراغ لے کے راہ میں اے کاش مہرباں ملے

ابھی تلک فغاں ہوں میں، مثالِ داستاں ہوں میں

ملے تو ایک پل کبھی، کہیں تو کارواں ملے

عجیب سے وہ رنگ تھے، سبھی کے ہاتھ سنگ تھے

ہمیں تو غیر بھی سبھی، مثالِ دوستاں ملے

جبیں، جبیں نہیں رہی، تو مہ جبیں نہیں رہی

نہ لوگ وہ کہیں ملے، نہ تجھ کو آستاں ملے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Recommended Salam
A Ghazal By Najma Khosa