آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریناصر ملک

تمثیل

ایک اردو غزل از ناصر ملک

کسی اِک وار پر جیسے وفا کی مات ٹھہری ہو
کوئی دیوانگی جیسے لبِ جذبات ٹھہری ہو
کسی اُلجھے ہوئے نکتے پہ آ کے بات ٹھہری ہو
کسی تاریک لمحے پر گریزاں رات ٹھہری ہو
کہ یوں خاموش سی خواہش مرے ہونٹوں پر ٹھہری ہے

ناصر ملک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button