پوچھے گا کون تجھ کو میاں من لگا کے پی
یہ مے کدہ ہے اور یہاں نظریں اٹھا کے پی
پنہاں ہیں اس میں راز بقا و فنا کے سب
یہ واجب الادب ہے بہت سر جھکا کے پی
دنیا رہے نہ تجھ میں، نہ باقی رہے تو خود
دل میں خیالِ یار کو ایسے بسا کے پی
کڑوی ہے گر شراب تو پھر ایک کام کر
سوزِ درون و اشکِ محبت ملا کے پی
رکھ ہی لیے ہیں تو نے قدم مے کدے میں، تَو
نہ خوف کھا کسی کا، نہ دامن بچا کے پی
فیاض سیکھ پہلے تو آدابِ مے کدہ
پھر ساغرِ وِلا میں عقیدت ملا کے پی
فیاض ڈومکی








