- Advertisement -

رکھیے گردن کو تری تیغ ستم پر ہو سو ہو

میر تقی میر کی ایک غزل

رکھیے گردن کو تری تیغ ستم پر ہو سو ہو
جی میں ہم نے یہ کیا ہے اب مقرر ہو سو ہو

قطرہ قطرہ اشک باری تو کجا پیش سحاب
ایک دن تو ٹوٹ پڑ اے دیدئہ تر ہو سو ہو

بند میں ناز و نعم ہی کے رہے کیونکر فقیر
یہ فضولی ہے فقیری میں میسر ہو سو ہو

آ کے کوچے سے ترے جاتا ہوں کب جوں ابرشب
تیر باراں ہو کہ برسے تیغ یک سر ہو سو ہو

صاحبی کیسی جو تم کو بھی کوئی تم سا ملا
پھر تو خواری بے وقاری بندہ پرور ہو سو ہو

کب تلک فریاد کرتے یوں پھریں اب قصد ہے
داد لیجے اپنی اس ظالم سے اڑ کر ہو سو ہو

بال تیرے سر کے آگے تو جیوں کے ہیں وبال
سر منڈاکر ہم بھی ہوتے ہیں قلندر ہو سو ہو

سختیاں دیکھیں تو ہم سے چند کھنچواتا ہے عشق
دل کو ہم نے بھی کیا ہے اب تو پتھر ہو سو ہو

کہتے ہیں ٹھہرا ہے تیرا اور غیروں کا بگاڑ
ہیں شریک اے میر ہم بھی تیرے بہتر ہو سو ہو

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل