آپ کا سلاماردو غزلیاتڈاکٹر اسد نقویشعر و شاعری

تمہیں بتاو کہ فی زمانہ سراغ پاؤں کہاں سحر کا

ڈاکٹر اسد نقوی کی ایک اردو غزل

تمہیں بتاو کہ فی زمانہ سراغ پاؤں کہاں سحر کا
چراغ_ خیمہ بجها کے دیکها نہیں ہے کوئی نشان سحر کا

یہ تیرگی میں مچل رہا تھا، بلک رہا تھا، سسک رہا تھا
ترے خیالوں نے آکے باندھا ہے میرے دل میں سماں سحر کا

اندهیر نگری میں چل رہا ہوں میں ہر قدم پر پهسل رہا ہوں
مگر مرا دل یہ کہہ رہا ہے یہیں کہیں ہے مکاں سحر کا

گلاب جوڑے میں صبح دم گلستاں میں آکر سجا رہی ہے
سبھی اسی کو ہی تک رہے ہیں سو ہو گیا ہے زیاں سحر کا

یہ تیرے چہرے، ترے بدن کے ہر ایک حصے کو چهو رہی ہے
یوں لگ رہا ہے کہ آج تو ہے ہر اک ارادہ جواں سحر کا

ڈاکٹر اسد نقوی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button