اردو غزلیاتڈاکٹر دانش عزیزشعر و شاعری

کہا تھا تم سے نہ پیار کرنا

دانش عزیز کی ایک اردو غزل

کہا تھا تم سے نہ پیار کرنا وہی کیا نا
نہ لفظ بننا نہ شعر کہنا وہی کیا نا

یہ تیرا خوں تک نچوڑ لیں گے کہا تھا تجھ سے
نہ سرخ پھولوں کے پاس جانا وہی کیا نا

کہا تھا تحفے خطوط سارے چھپا کے رکھنا
کہا تھا سب کو نہ یہ دکھانا وہی کیا نا

کہا تھا چاہت سے دور رہنا یہ مار دے گی
کہا تھا دل کی نہ ایک سننا وہی کیا نا

پرند تم پر ہنسا کریں گے کہا تھا تم سے
نہ تم درختوں پہ نام لکھنا وہی کیا نا

یہ ٹوٹ جائیں تو سانس لینا محال ٹھہرے
کہا تھا تم سے نہ خواب بننا وہی کیا نا

کہا تھا باتوں میں تیز ہے وہ سنبھل کے رہنا
نہ اس کا ہرگز یقین کرنا وہی کیا ناں

ذہین تو ہو مگر زمانہ شناس کم ہو
تمہیں کہا تھا نہ عشق کرنا وہی کیا نا

لٹا پٹا ہے فریب دے گا خیال کرنا
کبھی نہ دانشؔ کی بات سننا وہی کیا نا

دانش عزیز

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button