کہا تھا تم سے نہ پیار کرنا وہی کیا نا
نہ لفظ بننا نہ شعر کہنا وہی کیا نا
یہ تیرا خوں تک نچوڑ لیں گے کہا تھا تجھ سے
نہ سرخ پھولوں کے پاس جانا وہی کیا نا
کہا تھا تحفے خطوط سارے چھپا کے رکھنا
کہا تھا سب کو نہ یہ دکھانا وہی کیا نا
کہا تھا چاہت سے دور رہنا یہ مار دے گی
کہا تھا دل کی نہ ایک سننا وہی کیا نا
پرند تم پر ہنسا کریں گے کہا تھا تم سے
نہ تم درختوں پہ نام لکھنا وہی کیا نا
یہ ٹوٹ جائیں تو سانس لینا محال ٹھہرے
کہا تھا تم سے نہ خواب بننا وہی کیا نا
کہا تھا باتوں میں تیز ہے وہ سنبھل کے رہنا
نہ اس کا ہرگز یقین کرنا وہی کیا ناں
ذہین تو ہو مگر زمانہ شناس کم ہو
تمہیں کہا تھا نہ عشق کرنا وہی کیا نا
لٹا پٹا ہے فریب دے گا خیال کرنا
کبھی نہ دانشؔ کی بات سننا وہی کیا نا
دانش عزیز








