A True Salam To Urdu Literature

Yeh Wehshat Naak Manzar

An Urdu Ghazal By Ayub Sabir

یہ وحشت ناک منظر کی جھلک محسوس ہوتی ہے
جو ویراں شہر کی وسطی سڑک محسوس ہوتی ہے

دکھائی دے رہی ہو جیسے کوئی دھول گھوڑوں کی
سپہ سالار کو تازہ کمک محسوس ہوتی ہے

کسی بھی یار نے پردیس جانے سے نہیں روکا
ابھی تک میرے دل میں یہ کسک محسوس ہوتی ہے

میں اپنے گھر کے آنگن میں سماعت چھوڑ آیا ہوں
مرے کانوں میں چوڑی کی کھنک محسوس ہوتی ہے

بھیانک زلزلے نے بستیوں کو خاک میں بدلا
مجھے اب تک زمیں کو وہ دھمک محسوس ہوتی ہے

میرے کاندے پہ رکھ کر ہاتھ ماں نے تھپتھپایا تھا
بدن میں آج بھی اُس کی تھپک محسوس ہوتی ہے

یہ دل کی بے قراری بے سبب ہوتی نہیں صابرؔ
کسی طوفان کی پھرسے بھنک محسوس ہوتی ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Recommended Salam
An Urdu Ghazal By Ayub Sabir