اردو غزلیاتاسماعیلؔ میرٹھیشعر و شاعری

رسوا ہوئے بغیر نہ ناز بتاں اٹھا

اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل

رسوا ہوئے بغیر نہ ناز بتاں اٹھا

جب ہو گئے سبک تو یہ بار گراں اٹھا

معنی میں کر تلاش معاش دماغ و دل

حیواں صفت نہ لذت کام و دہاں اٹھا

گر خندہ یاد آئے تو سینہ کو چاک کر

گر غمزہ یاد آئے تو زخم سناں اٹھا

یا آنکھ اٹھا کے چشم فسوں ساز کو نہ دیکھ

یا عمر بھر مصائب دور زماں اٹھا

اس انجمن میں جائیے اب کس امید پر

ہم بیٹھنے نہ پائے کہ وہ بد گماں اٹھا

بے یاد دوست عمر گرامی نہ صرف کر

اس گنج شائگاں کو نہ یوں رائیگاں اٹھا

وصل و فراق وہم سہی دل لگی تو ہے

پھر ہم کہاں جو پردۂ راز نہاں اٹھا

پروانہ کی تپش نے خدا جانے کان میں

کیا کہہ دیا کہ شمع کے سر سے دھواں اٹھا

اسماعیلؔ میرٹھی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button