- Advertisement -

ڈاکٹر وحید احمد کا نظم نامہ

اردو تحریر از سعد ضیغم

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب "نظم نامہ” اپنی اشاعت کے مراحل میں سے گزر رہی ہے۔ دِنوں کا ہیر پھیر ایسا تھا کہ ڈاکٹر صاحب سے ہفتے دو ہفتے میں ایک بار کہیں نا کہیں ضرور ملاقات ہو جاتی تھی۔ آپ لائل پور تشریف لائے تو اُن سے ایک غزل سُنی؛ ڈاکٹر صاحب نظم لکھتے ہیں مگر اُن کا قول ہے کہ "نظم لکھنے کے لیے غزل کی تربیت ضروری ہے” ہاں کبھی طبیعت ہو جائے تو غزل بھی کہتے ہیں اور ایسی کہتے ہیں کہ سُن کر آدمی نظم سننا بھول جائے۔ ہاں تو میں بات کر رہا تھا کہ لائل پور کی ایک یادگار ملاقات میں انہوں نے غزل سنائی،

ﻣﯿﺎﻥ_ ﻻﻟﮧ ﻭ ﮔﻞ ﺳﺮﺥ ﺭﻭ ﻋﻼﺣﺪﮦ ہے
ﮨﺠﻮﻡ_ ﺳﺮﻭ ﻗﺪﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻋﻼﺣﺪﮦ ﮨﮯ

ﺑﺒﺎﺭﮔﺎﮦ_ ﺷﮩﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﮯ ﻟﺐ ﻭ ﻟﮩﺠﮧ
ﺑﺒﺰﻡ_ ﻧﻮﺣﮧ ﮔﺮﺍﮞ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻋﻼﺣﺪﮦ ﮨﮯ

ﮨﮯ ﺩﯾﺪﻧﯽ ﯾﮧ ﺩﻭ ﺁﺑﮧ، ﻳﮧ ﮔﺮﺩﺵ_ ﺳﻴّﺎل
ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﺯﮨﺮ ﺭﻭﺍﮞ ﮨﮯ ﻟﮩﻮ ﻋﻼﺣﺪﮦ ﮨﮯ

ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻃﺮﯾﻘﺖ ﮨﮯ ﻣﮯ ﮐﺸﯽ ﮐﯽ ﻣﯿﺎﮞ
ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺎﻗﯽ ﻭ ﺟﺎﻡ ﻭ ﺳﺒﻮ ﻋﻼﺣﺪﮦ ﮨﮯ

ﻟﺒﺎﺱ_ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﭘﯿﻮﻧﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﺧﺴﺘﮕﯽ ﮨﮯ ﺭﻓﻮ ﭘﺮ ﺭﻓﻮ ﻋﻼﺣﺪﮦ ﮨﮯ

ﺟﻮ ﺗﯿﻎ_ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ
ﺗﻮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻣﻴﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﮩﻮ ﻋﻼﺣﺪﮦ ﮨﮯ

ﺗﺠﮭﮯ ﺗﻼﺵ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﭘﻮﺟﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ
ﮐﮧ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﺳﮯ ﺗﺮﯼ ﺁﺭﺯﻭ ﻋﻼﺣﺪﮦ ﮨﮯ

ﻣﯿﮟ ﺷﺶ ﺟﮩﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﺣﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ
ﯾﮧ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﻣﺮﮮ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﻋﻼحدہﮨﮯ

اگلے روز شام کے اوقات میں جب ان سے اس غزل کے بارے میں گفتگو ہوئی تو میں نے التجا کی کہ حضور مجھے اس زمین میں شعر کہنے کی اجازت دیں، جو انہوں نے بڑی خوشی سے دے دی اور میں نے اسی زمین میں کچھ اشعار کہنے کی جسارت کی۔ ڈاکٹر صاحب کی غزل کے سامنے میرے اشعار کی کیا وقعت اور حیثیت اور میری کیا مجال ھی کہ میں اُن کی غزل پر غزل کہنے کی گستاخی کرتا مگر خدا کا شکر ہوا کہ غزل مکمل ہوئی اور میں نے اگلے ملاقات میں ڈاکٹر صاحب کے حضور پیش کی جس پر انہوں نے بڑی شفقت ست نوازا اور میرا حوصلہ بڑھایا۔
میں نے یہ غزل پہلی بار کب اور کس مشاعرے میں سُنائی یہ تو مجھے یاد نہیں مگر یہ جانتا ہوں کہ اِن تمام برسوں میں ڈاکٹر صاحب کی موجودگی اور غیر موجودگی میں پچاس مرتبہ(اُنکی غزل کے تذکرے کے ساتھ)یہ غزل سُنا چکا ہوں گا۔
پچھلے دنوں سیالکوٹ میں بھائی بلال اسعد نے ایک نشست میں اِس غزل کی فرمائش کی تو مجھے دو سے زائد شعر یاد نہ آ سکے مگر ڈاکٹر صاحب کی غزل کے تمام اشعار مجھے یاد تھے جو میں نے بصد محبت انہیں سُنائے۔
یہ واقعہ اِس بات کی دلیل ہے کہ میں آج بھی اِس زمین میں ڈاکٹر صاحب کی کہی غزل کو ہی غزل سمجھتا ہوں۔ میں نے تو یہ غزل صرف انکے ساتھ شعری حوالہ بنانے اور نسبت جوڑنے کو کہی تھی۔ شعری حوالے اور نسبت سے مجھے بھائی شہزاد نیر کے تازہ مجموعہ غزل "خوابشار” کی ایک غزل کا شعر یاد آ گیا جو اُنکی طرف سے میرے لیے بہت بڑا تحفہ ہے،

وحید و سعد آئیو ، ارے مدد کو دوڑیو
میں غرقِ صد سبو تھا تشنہ کام کیسے ہو گیا

(شعر کے مضمون سے ہمارے تعلقات میں ایک دوسرے کے لیے معاملاتِ مشکل کشائی و مسیحائی پر ہرگز غور نہ کیا جائے)

تو سیالکوٹ کے اس واقعے کے بعد میں نے بلال اسعد اور دوستوں سے وعدہ کیا کہ اگلی نشست میں یہ غزل ضرور سُناؤں گا۔ دو ہی دن میں سیالکوٹ مقامِ ہجرت بن گیا تاحال بلال بھائی سے ملاقات نہیں ہوئی کہ انہیں یہ غزل سُناؤں۔ کل شاہ جہاں سالف نے غزل کی فرمائش کی تو فورا سوچا یہی غزل پیشِ خدمت کروں گا کیونکہ شاہ جہاں جیسے پیارے شاعر دوست کی فرمائش اِسی خاص غزل سے پوری ہو سکتی تھی اور اسی بہانے اتنی ساری بجھی یادیں پھر سے ٹمٹا اٹھیں گی۔
ڈاکٹر صاحب اِن دنوں ریٹائرمنٹ کے بعد راولپنڈی میں سکونت پزیر ہیں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ وبا سے پہلے کے ایک ڈیڑھ سال میں ناصرف انہوں نے مختلف ادبی محفلوں میں مشاعروں میں تسلسل سے آنا جانا شروع کر چکے ہیں بلکہ اسی دورانیے میں انہوں نے بہت سے دوستوں کو بخوشی پکڑائی بھی دینا شروع کر دی ہے جنہوں نے انکی بہت سی نظمیں ریکارڈ کر کے خوبصورت ایڈیٹنگ کے ساتھ یوٹیوب وغیرہ پر رکھ دیا ہے۔ اِس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کی یادگار نظم "خانہ بدوش” کی ویڈیو قابلِ دید و ستائش ہے جسے بھائی فیضان ہاشمی نے بڑی محبے سے بنایا ہے۔ اُس ویڈیو کے آخر میں گھر کے جو مخصوص مناظر دکھائے گئے ہیں وہ بھی شاندار ہیں، میں نے کئی مرتبہ انہیں دیکھا اور محسوس کیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کو میں نے مشاعروں میں بہت کم غزل سناتے سنا ہے، دیکھا گیا ہے کہ اگر فرمائش بھی کی گئی تو انہوں نے دو چار اشعار عطا کر دیے۔ اوپری سطروں میں نظموں کی ویڈیوز کا تذکرہ اس لیے کیا کہ میں ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں اِس تحریر کی وساطت سے یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ ہم میری ادنی سی فرمائش پر تبرک کے طور پر اس تحریر میں شامل دونوں غزلیں آئندہ کسی ویڈیو میں پیش فرمائیں جو میری اور میری طرح آپکے کئی چاہنے والوں کی تسکین کا سامان ہوں گی

مجھ کو خالی جہان دیکھتا ہے
آئینہ آسمان دیکھتا ہے

ایک مدت کے بعد گھر آیا
اجنبی خاندان دیکھتا ہے

یہ وہ عدسہ ہے جو ستاروں پہ
انگلیوں کے نشان دیکھتا ہے

ہم نے صحرائے زندگی دیکھا
جس طرح ساربان دیکھتا ہے

وقت وہ تیر ہے وحید احمد
جو کماں کی اڑان دیکھتا ہے

وحید احمد

سعد ضیغم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو سفرنامہ از ڈاکٹر محمد اقبال ہما