- Advertisement -

سوال کیا ہے؟

جاوید اختر کی ایک اردو نظم

سوال کیا ہے؟

میرے مخالف نے چال چل دی ہے
اور اب میری چال کے انتظار میں ہے
مگر میں کب سےسفید خانوں
سیاہ خانوں میں رکھےکالے سفید مہروں کو دیکھتا ہوں
میں سوچتا ہوں یہ مہرے کیا ہیں
اگر میں سمجھوں کے یہ جو مہرے ہیں صرف لکڑی کے ہیں کھلونے
تو جیتنا کیا ہے ہارنا کیا
نہ یہ ضروری نہ وہ اہم ہیں
اگر خوشی ہے نہ جیتنے کی نہ ہارنے کا ہی کوئی غم ہے
تو کھیل کیا ہے
میں سوچتا ہوں جو کھیل نہ ہے تو اپنے دل میں یقین کر لوں
یہ مہرے سچ مچ ہیں بادشاہ و وزیر و پیادے
اور انکے آگے ہے دشمنوں کے وہ فوج
رکھتی ہے جو مجھکو تباہ کرنے کے سارے منصوبے سب ارادے
مگر میں ایسا جو مان بھی لوں
تو سوچتا ہوں یہ کھیل کب ہے
یہ جنگ ہے جس کو جیتنا ہے
یہ جنگ ہے جس میں سب ہے جائز
کوئی یہ کہتا ہے جیسےمجھ سے
یہ جنگ بھی ہے،یہ کھیل بھی ہے
یہ جنگ ہےپر کھلاڑیوں کی
یہ کھیل ہے جنگ کی وضع کا
میں سوچتا ہوں جو کھیل ہے یہ
تو اس میں اس طرح کا اصول کیوں ہے
کہ کوئی مہرہ رہے کے جائے
مگر جو ہے بادشاہ اس پر کبھی کوئی آنچ نہ آے
وزیر ہی کو ہے بس اجازت کہ جس طرف بھی وہ چاہے جائے
میں سوچتا ہوں جو کھیل ہے یہ
اس میں اس طرح کا اصول کیوں ہے
کہ پیادہ جو اپنے گھر سے نکلے پلٹ کر واپس نہ جانے پاے
میں سوچتا ہوں اگر یہی ہے اصول تو پھر اصول کیا ہے
میں سوچتا ہوں اگر یہی ہے کھیل تو پھر کھیل کیا ہے
میں ان سوالوں سے جانے کب سے الجھ رہا ہوں
میرے مخالف نے چال چل دی ہے
اور اب میری چل کے انتظار میں ہے

جاوید اختر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از جاوید اختر