اردو غزلیاتانور شعورشعر و شاعری

مبادا اُس گلی میں جاؤں تو للکار دے کوئی

انور شعورکی ایک اردو غزل

مبادا اُس گلی میں جاؤں تو للکار دے کوئی
کہیں ایسا نہ ہو پتھر اُٹھا کر مار دے کوئی

مرے سینے میں بھی اک دل چھپا بیٹھا ہے دنیا سے
عیاں کردوں اگر انصاف کا اقرار دے کوئی

مجھے صحرا نوردی گوشہ گیری کے برابر ہے
بس اب سر پھوڑ لینے کے لئے دیوار دے کوئی

کراچی میں مجھے دنیا کی ہر نعمت میسر ہے
مگر میں پیار کا پیاسا ہوں مجھ کو پیار دے کوئی

شعورؔ آنکھیں تو کھولو، یہ کہاں کی ہوشمندی ہے
محبت کے جُوے میں زندگی تک ہار دے کوئی

انور شعورؔ​

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button