- Advertisement -

بے قراری سی پیدا ہوئی من میں ہے

محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل

بے قراری سی پیدا ہوئی من میں ہے
جس کو دیکھو وہی ایک الجھن میں ہے

راس آئی نہیں ہم کو تبدیلیاں
بھوک پھیلی ہوئی گھر کے آنگن میں ہے

بچے بوڑھے جواں ، چہرے کملائے سے
جانتے ہیں سبھی کچھ نہ برتن میں ہے

خرچہ اتنا بڑھا قرضہ سر پر چڑھا
اک عجب بے کلی سب کے جیون میں ہے

ایسے میں پھر وبا آ رہی ہے رضا
خوف پیدا ہوا دل کی دھڑکن میں ہے

محمد رضا نقشبندی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شبانہ محمود ۔ اسلام آباد