آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم احسان بٹ

تیغِ شکستہ، تیرِ خمیدہ سے جنگ میں

کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل

تیغِ شکستہ، تیرِ خمیدہ سے جنگ میں
لڑتا ہے کون دستِ بریدہ سے جنگ میں

کرنا پڑے گا مجھ کو عدو سے مکالمہ
وہ بڑھ رہا ہے خطِ کشیدہ سے جنگ میں

مجھ کو ملا ہے مالِ غنیمت سے اک قلم
میں نے بھری تھی آگ قصیدہ سے جنگ میں

اک مردِ باراں دیدہ ہمیں روکتا رہا
اس خونِ گرم و برقِ تپیدہ سے جنگ میں

آؤ نہ بار بار یوں میرے خیال میں
روکو نہ اس طرح نمِ دیدہ سے جنگ میں

دربار میں کہا تھا ستارہ شناس نے
ہارے گا وہ غلامِ خریدہ سے جنگ میں

منصورؒ ہو، حسینؓ ہو یا ہو کلیمؔ تم
ہوتے ہیں سر بلند چنیدہ سے، جنگ میں

کلیم احسان بٹ

post bar salamurdu

کلیم احسان بٹ

کلیم احسان بٹ جلا لپور جٹاں ضلع گجرات میں 5 دسمبر 1964 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام احسان اللہ بٹ تھا۔ آپ نے اپتدائی تعلیم جلال پور جٹاں میں حاصل کی۔ ایم اے گورنمنٹ زمیندار کالج گجرات سے کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ آپ کی اب تک سات کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے تین شاعری کی ہیں۔ تفصیل حسب ذیل ہے 1۔گجرات میں اردو شاعری۔گجرات کی 444سالہ علمی و ادبی تاریخ 2۔ موسم گل حیران کھڑا ہے شاعری 3۔ ابر رحمت جلد اول تحقیق 4۔ ابر رحمت جلد دوم تحقیق 5۔ چلو جگنو پکڑتے ہیں شاعری 6۔ تفہیم و تحسین تنقیدی مضامین 7۔ حیرت باقی رہ جاتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button