اردو نظمایوب خاورشعر و شاعری

آئینہ خانہ

ایوب خاور کی اردو نظم

مقید ہوں میں اِک آئینہ خانے میں
یہ کیسا آئینہ خانہ ہے
جس میں میرے چہرے کی جگہ
اب ہر طرف تیرا ہی چہرہ ہے
رہائی کی کوئی صورت نہیں ممکن
بدن سے روح تک پھیلے
سفالِ جاں کے ذرّے ذرّے پر جاناں
عجب رُخ سے
ترے شوریدہ چشم و لب کا پہرا ہے

ایوب خاور

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button