آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتسلطانہ ناز

بچھڑ کہ تجھ سے کہاں تک

سلطانہ ناز کی ایک اردو غزل

بچھڑ کہ تجھ سے کہاں تک گزار سکتی تھی
یہ بوجھ کیسے اکیلے سہار سکتی تھی

کہ عمر لگتی ہے اک آ شیاں بنانے میں
جنوں میں آ کہ یہ کیسے اجاڑ سکتی تھی

میرے غرور کی دھجیاں بکھیر کہ رکھ دیں
میں تجھے چیخ کہ کیسے پکار سکتی تھی

میرے وجود سے روشن نہ تھا وجود اس کا
بتاؤ کتنا میں خود کو سنگہار سکتی تھی

تمام عمر بھی کرتے حکومتیں دل پر
میں دل کہ تخت سے ،کیسے اتار سکتی تھی

میں دل کہ درد کی سب وحشتوں سے واقف ہوں
بسا کہ خود تجھے کیسے ، اجاڑ سکتی تھی

سلطانہ ناز 

سلطانہ ناز

میرا نام سلطانہ ناز ہے ۔ میرا تعلق پاکستان کہ خوبصورت شہر لاہور سے ہے ۔ مگر ابھی میں سویڈن میں موجود شہر کالمار سٹی میں اپنی فیملی کہ ساتھ مقیم ہوں ۔ سویڈش کمپنی میں جاب کرتی ہوں ۔ اور ادب سے لگاؤ رکھتی ہوں ۔ شاعری اظہار کرنے کا سب سے خوبصورت ذریعہ ہے ۔ جو رب اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے۔ میری شاعری بھی میرے رب کی عطا ہے ۔ میری پہچان میرا تعارف میری شاعری ہے اس کہ سوا میرا کوئی تعارف نہیں ۔ اور اپنے رب تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ بندوں میں شمار کر لے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button