آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

آج ترے خلوص میں رنج رچا بسا ہوا

ایک اردو غزل از رشید حسرت

آج ترے خلوص میں رنج رچا بسا ہوا
اور اگر، عجیب ہے طور ترا تو کیا ہوا

فیض بھلے لیا نہیں، شوق ترا عروج پر
شعر کمال کا کہا درد میں ہے گھلا ہوا

پھول کھلے چمن چمن، زخم بھی تھے بدن بدن
دھند عروج پر رہی، قلب کہ تھا بجھا ہوا

کون اسے سکھا گیا ساتھ مرا گراں اسے
آج رواں نہ ہو سکا کام جو تھا رکا ہوا

رات بڑی اداس ہے، کون اسے منائے گا
اوس کہیں پڑی ہوئی، چاند ڈرا ڈرا ہوا

ریت عجیب پڑ گئی، لوگ کِھچے کِھچے رہے
قرب جسے بزرگ کا، شخص وہی جما ہوا

شان جسے عطا ہوئی کون گھٹا سکے رشیدؔ
آج منافقوں سے ہے شہر مرا بھرا ہوا

رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۱۶، اکتوبر، ۲۰۲۶

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button