اردو شاعریاردو غزلیاتڈاکٹر کبیر اطہر

اس لیے قریہؑ دل میں مری عزت کم ھے

ڈاکٹر کبیر اطہر کی ایک اردو غزل

اس لیے قریہؑ دل میں مری عزت کم ھے
میرے کاسے میں ابھی عجز کی دولت کم ھے

میں ہر اک کام تسلی سے کیا کرتا ھوں
عشق مت سونپئے صاحب مجھے فرصت کم ھے

بانٹ سکتی ھے مرا ہجر اُداسی میری
آج کل مجھ پہ مگر اس کی عنایت کم ھے

مہرباں ہے مرے دل پر تری یادوں کی ہوا
میرے سینے میں گھٹن شہر کی نسبت کم ہے

کر دیا میں نے ہواؤں کے حوالے ورنہ
غم کو خوشبو میں بدلنے کی روایت کم ھے

گرخوشی جیب پہ بھاری ہے تو میں حاضر ہوں
میں ہوں متروک۔زمانہ مری قیمت کم ہے

عشق کرتا ہوں عبادت کے قرینے سے کبیر
اس لیے بھی مرے اس کام کی شہرت کم ہے

کبیر اطہر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button