آپ کا سلاماردو غزلیاتزین علی آصفشعر و شاعری
زینؔ گفتار و تصنع سے کدھر ہوتا ہے
زین علی آصف کی ایک اردو غزل
زینؔ گفتار و تصنع سے کدھر ہوتا ہے
دل چرانے کا بھی اک خاص ہنر ہوتا ہے
مان لیں صبر کا پھل میٹھا اگر ہوتا ہے
کب مرے بخت کے صحرا میں شجر ہوتا ہے
دے چکی چیز بھی کب اپنی ہوئی جیسے کہ دل
درد کے سہنے کو موجود جگر ہوتا ہے
ہائے غربت چڑھی ہو بھی تو اتر جاتی ہے
گرتے گرتے جو کبھی جیب پہ سر ہوتا ہے
رو برو ہوتے ہی جو سوز نہاں کر دے عیاں
ہر کسی آنکھ میں کب اتنا ہنر ہوتا ہے
روح پھر پیکرِ فانی سے نکل جاتی ہے
چہر ہ ِ یار سے انکار اگر ہوتا ہے
یہ محبت ہی کسی دل کی نظر ہوتی ہے
یہ تکبر ہی کسی ذہن کا شر ہوتا ہے
توڑ ہی دے نہ طبیعت کی اکڑ تجھ کو زینؔ
نرم خو شخص ہر اک دل میں امر ہوتا ہے
زین علی آصف








