- Advertisement -

دیکھی تھی تیرے کان کے موتی کی اک جھلک

میر تقی میر کی ایک غزل

دیکھی تھی تیرے کان کے موتی کی اک جھلک
جاتی نہیں ہے اشک کی رخسار کے ڈھلک

یارب اک اشتیاق نکلتا ہے چال سے
ملتے پھریں ہیں خاک میں کس کے لیے فلک

طاقت ہو جس کے دل میں وہ دو چار دن رہے
ہم ناتوان عشق تمھارے کہاں تلک

برسوں ہوئے کہ جان سے جاتی نہیں خلش
ٹک ہل گئی تھی آگے مرے وہ پھری پلک

آئی نہ ہاتھ میر کی میت پہ کل نماز
تابوت پر تھی اس کے نپٹ کثرت ملک

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل