آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعریفیاض حسین ڈومکی

معصوم پری

فیاض حسین ڈومکی کی ایک اردو نظم

لکھ رہا ہوں چاہت لمحے
عشق کی دیوی گوندھ رہا ہوں
لفظوں میں۔۔۔
دل کی رانی
کاجل بھر کے نینوں میں
سجا کے سپنے پلکوں پہ
سوچ کے گہرے بادل میں
زلفوں کا آنچل بکھرائے
دیکھ رہی تھی تاروں کو
نیم وا لبوں کے درمیاں
مخروطی انگلیوں کے
مخملی احساس سے
بہکا رہی تھی فضاؤں کو
گوری بانہوں کی چوڑی
چھیڑ رہی تھی سازوں کو
اس چاند نگر کی رانی کا
دہکا دہکا چہرہ تھا
ریشم ریشم باتیں تھیں
بکھری بکھری سانسیں تھیں
کچھ کہنے سے وہ
ڈرتی تھی
پر مجھ کو
خوب سمجھتی تھی۔۔
دعا بن کے ہاتھ پہ میرے
تسبیح پر بکھرتی تھی
اج عشق کے پنے کھولے تو
اک لمحہ مسکان بنا
اس گہری شب کی خاموشی میں
معصوم پری کا
ہلکی سی آہٹ پہ ڈر جانا
پھر دھیرے دھیرے
خود پہ ہنس دینا
کیا خوب قیامت برپا تھی
عشق کی دیوی
اور
معصوم پری

فیاض حسین ڈومکی

post bar salamurdu

فیاض ڈومکی

سبی سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر فیاض حسین ڈومکی نے غزل سے شاعری کا آغاز کیا اور بہت جلد ان کا کلام شاعری کے افق پر پذیرائی پانے میں کامیاب ہوا اور انہوں نے 2010 سے شاعری کی ابتداء کی اور ان کا پہلا اردو شعری مجموعہ ( نسیم دشت ) کے نام سے 2023 شائع ہو چکا ہے ۔ فیاضؔ ڈومکی 6 جون 1996 کو تریہڑ میں پیدا ہوئے جو تحصیل لہڑی ضلع سبی کا گاؤں ہے ان کا تعلق بلوچ قوم کے ڈومکی قبیلے سے ہے ،مزید اس کے شاخوں میں سے محمدانی اور اس کی ذیلی شاخ بالاچانی سے ہے یہ قوم زیادہ تر تریہڑ ،لہڑی سبی میں آباد ہے ۔ انہوں نے اپنی بنیادی پرائمری تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول تریہڑ سے پانچویں تک حاصل کی بعد ازاں مڈل تک ڈویژنل پبلک سکول سبی میں پڑھا اور ملٹری کالج سوئی سے میٹرک و ایف ایس سی کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے 2020 میں بی ایس کیا ۔ ادب کی طرف ان کا رحجان بچپن ہی سے تھا البتہ 2010 اور 2011 میں شعر کہنا شروع کئے اور لکھنے کی ابتداء غزل سے کی ان کے بقول غزل ایک ایسی صنف ہے جو جذبات کی نزاکت اور احساسات کی شدت کو مختصر ، موثر انداز میں بیان کرنے کا فن سکھاتی ہے انہوں نے پہلا شعر ہشتم یا نہم جماعت میں کہا جو انہوں نے اپنی اردو کی ٹیچر ساجدہ امام شاہوانی صاحبہ کو دکھایا جن کی پذیرائی اور تحریک نے ان کو ادبی میدان میں باقاعدہ طور پر قدم بڑھانے میں بہت مدد دی ۔ بعد ازاں نظم و نثر میں بھی طبع آزمائی کی لیکن غزل ہمیشہ ان کے دل کے قریب رہی ۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ اصلاح کن سے لی ہے تو انہوں نے بتایا کہ ادبی اصلاح دراصل ایک مسلسل سفر ہے جو صرف کسی ایک استاد سے نہیں بلکہ اچھے ادب کے مطالعے سے بھی حاصل ہوتی ہے البتہ جو استاد ان پر مہربان رہے ان میں عظمی جون ،محمد طاہر کمال جنجوعہ ( تلمبہ) ذوالفقار یوسف سبی،فیاض تبسم سبی،امیت کمار عاصی ،سبی اور ان کے بقول جن اساتذہ کو پڑھا اور ان سے سیکھا ان میں میر ،غالب ،داغ، میر انیس ، اقبال ،فراز ،فیض ،محسن نقوی ،فرحت عباس شاہ،جون ایلیا ،اسلم کولسری ،منیر نیازی ،سلیم فوز ،پروین شاکر ،اور بھی کئی نام شامل ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button