لکھ رہا ہوں چاہت لمحے
عشق کی دیوی گوندھ رہا ہوں
لفظوں میں۔۔۔
دل کی رانی
کاجل بھر کے نینوں میں
سجا کے سپنے پلکوں پہ
سوچ کے گہرے بادل میں
زلفوں کا آنچل بکھرائے
دیکھ رہی تھی تاروں کو
نیم وا لبوں کے درمیاں
مخروطی انگلیوں کے
مخملی احساس سے
بہکا رہی تھی فضاؤں کو
گوری بانہوں کی چوڑی
چھیڑ رہی تھی سازوں کو
اس چاند نگر کی رانی کا
دہکا دہکا چہرہ تھا
ریشم ریشم باتیں تھیں
بکھری بکھری سانسیں تھیں
کچھ کہنے سے وہ
ڈرتی تھی
پر مجھ کو
خوب سمجھتی تھی۔۔
دعا بن کے ہاتھ پہ میرے
تسبیح پر بکھرتی تھی
اج عشق کے پنے کھولے تو
اک لمحہ مسکان بنا
اس گہری شب کی خاموشی میں
معصوم پری کا
ہلکی سی آہٹ پہ ڈر جانا
پھر دھیرے دھیرے
خود پہ ہنس دینا
کیا خوب قیامت برپا تھی
عشق کی دیوی
اور
معصوم پری
فیاض حسین ڈومکی








