اردو غزلیاتجمیل الدین عالیشعر و شاعری

کب تم بھٹکے کیوں

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

کب تم بھٹکے کیوں تم بھٹکے کس کس کو سمجھاؤ گے
اتنی دور تو آ پہنچے ہو اور کہاں تک جاؤ گے

اس چالیس برس میں تم نے کتنے دوست بنائے ہیں
اب جو عمر بچی ہے اس میں کتنے دوست بناؤ گے

بچپن کے سب سنگی ساتھی آخر کیوں تمہیں چھوڑ گئے
کوئی یار نیا پوچھے تو اس کو کیا بتلاؤ گے

جو بھی تم نے شہرت پائی جو بھی تم بدنام ہوئے
کیا یہی ترکہ اپنے پیارے بچوں کو دے جاؤ گے

اب اس جوش خود آگاہی میں آگے کی کیا سوچی ہے
شعر کہو گے عشق کرو گے کیا کیا ڈھونگ رچاؤ گے

عالؔی کس کو فرصت ہوگی ایک تمہی کو رونے کی
جیسے سب یاد آ جاتے ہیں تم بھی یاد آ جاؤ گے

جمیل الدین عالی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button