اردو غزلیاتشعر و شاعریفرزانہ نیناں

خوبصورت جنتوں میں سانپ چھوڑے رات بھر

فرزانہ نیناں کی اردو غزل

خوبصورت جنتوں میں سانپ چھوڑے رات بھر
مسکراتی ساعتوں کے لیکھ پھوڑے رات بھر
شمع کی لو ہے کہ ہے یہ آتشِ ہجراں کی آنچ
ہم پگھلتے جا رہے ہیں تھوڑے تھوڑے رات بھر
میں نے دل کی ریت پر اشکوں سے لکھی یہ غزل
اور دریاؤں کے رخ پلکوں سے موڑے رات بھر
ریشمی یادوں کے گچھے کھل رہے ہیں دم بہ دم
بھیگے بھیگے چاند سے موتی نچوڑے رات بھر
دیکھتا رہتا ہے وہ نیناں لئے اب دم بخود
توڑنے والے کے میں نے خواب جوڑے رات بھر

فرزانہ نیناں

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button