آپ کا سلاماردو غزلیاتسلیم فگارشعر و شاعری

ایسے بجھے ضمیر کہ روشن نہیں ہوئے

سلیم فگار کی ایک اردو غزل

ایسے بجھے ضمیر کہ روشن نہیں ہوئے
بے نور چشم و دل سے یہ اہلِ زمیں ہوئے

شاید کہیں پہ پھول کھلے اعتبار کا
برسوں گزر گئے ہیں ہمیں بے یقیں ہوئے

تیری ہنسی سے پھوٹنے والے طلسم سے
میں کیا کہ منظروں کے بھی چہرے حسیں ہوئے

دشتِ سخن میں آیا جو کوئی ہنر شناس
ہم بھی دکھائی دیں گے اگر ہم کہیں ہوئے

اب وحی ہے نہ اہلِ زمیں سے مکالمہ
صدیاں ہوئیں خدا کو بھی گوشہ نشیں ہوئے

تنہائیوں کے دشت پھلے اس لیے فگار
اک ایک کر کے گم سبھی دل کے مکیں ہوئے

سلیم فگار

post bar salamurdu

سلیم فگار

السلام علیکم ! میرا پورا نام محمد سلیم ہے قلمی نام سلیم فگار ہے- تعلق جہلم سے ہے - میرے تین شعری مجموعے ہیں - ستارہ سی کوئی شام - سنِ اشاعت مارچ دو ہزار پندرہ- تغیر۔ سنِ اشاعت ستمبر دوہزار انیس- خواب کی اذیت میں۔ سنِ اشاعت جنوری دوہزار چھبیس-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button