- Advertisement -

چراغ ساعت رفتہ سرنگ میں گم ہے

عثمان اقبال خان کی ایک اردو غزل

چراغ ساعت رفتہ سرنگ میں گم ہے
نگاہ آئنہ خانہء تنگ میں گم ہے

کسی طلسم نما اسم کی ضرورت ہے
مرا وجود کہ مدت سے زنگ میں گم ہے

تم آئنوں میں خدوخال ڈھونڈتے ہو کہاں
ہماری خاک کا پیکر تو سنگ میں گم ہے

امڈ پڑا ہے عجب سلسلہ سرابوں کا
بہار جیسے خزاوں کے رنگ میں گم ہے

مری نظر میں نہیں اب کوئی سراغ ترا
سو اب یہ دشت الگ ہی ترنگ میں گم ہے

حدود شب سے نکلنا ہے اب اسے عثمان
مرا چراغ کسی اور امنگ میں گم ہے

عثمان اقبال خان

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
عثمان اقبال خان کی ایک اردو غزل