آپ کا سلاماردو غزلیاتزبیر خیالیشعر و شاعری
بوئے خلوص ، عظمتِ انسان کھینچ کر
زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
بوئے خلوص ، عظمتِ انسان کھینچ کر
سینے سے کون لے گیا ایمان کھینچ کر
کرتا ہے اُن کے رِزق کا وہ اہتمام خود
لاتا ہے گھر ہمارے جو مہمان کھینچ کر
اُن کا عجب یہ طرزِ نصیحت تو دیکھیئے
سمجھا رہے ہیں مجھ کو گریبان کھینچ کر
لگتا ہے اِن سے اپنا تعلق ضرور ہے
لے آتے ہیں جو دشت و بیابان کھینچ کر
اے عقلِ خام تُو کبھی آ رُوبرو مِرے
تیری خبر میں لوں گا ترے کان کھینچ کر
شاید کوئی رَمق ہو محبت کی قلب میں
لے آیا ہے مجھے یہی اِمکان کھینچ کر
پروردگار ایسا مسیحا زمیں پہ بھیج
لے جائے اِس وطن سے جو بحران کھینچ کر
یوں سوئے حشر لاؤ کہ لاتے ہیں جس طرح
دربار میں اسیر کو دربان کھینچ کر
اُس شخص کا لگاؤ خیالی کوئی سراغ
جو تَن سے لے گیا ہے دل و جان کھینچ کر
زبیر خیالی








