جگر مراد آبادی
جگر مرادآبادی 6 اپریل 1890 کو مراد آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام علی سکندر تھا اور وہ تخلص ’جگر‘ استعمال کرتے تھے۔ ان کے والد علی نظر خواجہ وزیر لکھنوی کے شاگرد تھے۔ جگر کا اثر ان کے ہم عصروں اور بعد کی نسلوں پر بہت زیادہ رہا، خاص طور پر ہندوستانی فلم انڈسٹری کے مشہور گیت نگار مجروح سلطان پوری جیسے ان کے شاگردوں پر۔ جازبی، جان نثار اختر اور مجاز جیسے شاعر بھی جگر سے متاثر تھے۔ ان کی اہم اشاعتیں داغ جگر، شعلہ طور (1937)، آتش گل (1959)، دیوان جگر ہیں۔ ان کے خطوط کا مجموعہ بعد از مرگ شائع ہوا۔ جگر نے اپنی شاعری کے مجموعے آتش گل کے لیے اردو میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ جیتا تھا۔ ان کا انتقال 9 ستمبر 1960 (عمر 70 سال) کو لکھنؤ میں ہوا۔
-

داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

دل گیا رونق حیات گئی
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

عشق کو بے نقاب ہونا تھا
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

آنکھوں میں بس کے دل میں
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

شاعر فطرت ہوں
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

اللہ اگر توفیق نہ دے
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
-

کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
- 1
- 2