اردو غزلیاتجگر مراد آبادیشعر و شاعری

عشق کو بے نقاب ہونا تھا

جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل

عشق کو بے نقاب ہونا تھا
آپ اپنا جواب ہونا تھا

مست جام شراب ہونا تھا
بے خود اضطراب ہونا تھا

تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں
ہاں مجھی کو خراب ہونا تھا

آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے
ہو چکا جو عتاب ہونا تھا

کوچۂ عشق میں نکل آیا
جس کو خانہ خراب ہونا تھا

مست جام شراب خاک ہوتے
غرق جام شراب ہونا تھا

دل کہ جس پر ہیں نقش رنگارنگ
اس کو سادہ کتاب ہونا تھا

ہم نے ناکامیوں کو ڈھونڈ لیا
آخرش کامیاب ہونا تھا

ہائے وہ لمحۂ سکوں کہ جسے
محشر اضطراب ہونا تھا

نگۂ یار خود تڑپ اٹھتی
شرط اول خراب ہونا تھا

کیوں نہ ہوتا ستم بھی بے پایاں
کرم بے حساب ہونا تھا

کیوں نظر حیرتوں میں ڈوب گئی
موج صد اضطراب ہونا تھا

ہو چکا روز اولیں ہی جگرؔ
جس کو جتنا خراب ہونا تھا

جگر مراد آبادی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button