- Advertisement -

کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے

عابد خان لودھی کا ایک اردو کالم

کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے

کرونا اللہ تعالیٰ کادنیاپر عذاب ہے۔ اور خدا تعالی کے ساتھ لڑا نہیں جا سکتا بلکہ بچا جا سکتا ہے۔ عجیب ذہنیت ہے ان افلاطونوں کی جو ایسے نعرے بناتے ہیں۔ بغیر سوچے سمجھے جیسے چند روز قبل ایک نعرہ آیا میرا جسم میری مرضی۔ جب اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنا ہوتا ہے تو خدا ان لوگوں کے ذہن پھیر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب اس وقت نازل ہو تا ہے۔ جب بے راہروی عام ہو جاتی ہے انسان خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگتا ہے۔ ظلم وبربریت انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ پچھلی چند دہائیوں سے مسلمانوں پر انتہائی ظلم و ستم ہو رہا تھا۔ میانمار برما میں زندہ مسلمانوں کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ کشمیر کئی سالوں سے ظلم کی چکی میں پس رہا تھا۔ اب 300 دنوں سے مکمل لاک ڈاؤ ن میں ہے۔ سن کیانگ کے مسلمان ہوں یا عراق کے۔ ایران پر کئی دہائیوں سے اقتصادی پابندیاں لاگو ہیں۔ شامی مسلمانوں پر تو ظلم و استبداد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جب شام میں افراتفری ہو گی تو تو پوری دنیا کا امن غارت ہو جائے گا۔ اور یہ بات پتھر پر لکیر ہے اور اسے ہو نا ہی تھا۔ پاکستان کی مثال لیجئے بنارسی ٹھگ ریاست مدینہ کا نام لے کر دن رات جھوٹ بولتا ہے۔ شراب کی ایک بوتل کو جائز قرار دینا۔ایک چیلا اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بنارسی ٹھگ نے کہا ہے کہ چرس اور افیون کی فیکٹریاں لگاؤ۔ عورتوں کے حقوق کی آڑ میں بے حیائی کو فروغ دو۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک طریقہ کار تھا۔ کہ ٹیلی وژن اور ریڈیو کے پروگراموں کا آغاز اللہ تعالیٰ کے پاک کلام سے ہو تا تھا۔ اب مارننگ شوز نے ان کی جگہ لے لی۔ مذاکرات کے پرگرام میں عورتیں مغربی لباس میں آتی ہیں۔ اس میں جو ہم کر سکتے تھے کرنا چاہیئے تھا۔ جس سے اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہوتے۔ہمیں بھی حضور اکرم ﷺ کی حدیث پاک پر عمل کرنا چاہیئے تھا۔ کہ ہم بھی اپنے شہروں کو بند کر دیتے مگر ہم نے ذاتی مفادات کی خاطر بیماری کو اپنے ملک میں آنے دیا۔ اور رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی کے بھی مرتکب ہوئے۔
کرونا کاآغاز چین کے شہر وہان سے ہوا۔بیاسی ہزار کے قریب لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں۔ اور تقریباً 3500کے قریب اموات ہوئی ہیں۔ چینیوں نے فوری بھانپ لیا تھا کہ شائدمسلمانوں پر ان کے ظلم و ستم کی وجہ سے یہ آفت ان پر آن پڑی ہے۔ انہوں نے کرونا سے لڑنے کی بجائے۔ اس سے بچنے کو ترغیب دی اور چینی صدر نے مسجدوں میں جا کر مسلمانوں سے معافی مانگی۔اور رسول اکرم ﷺ کی حدیث کے مطابق اس شہر کو بند کر دو جس میں بیماری آئی ہے۔اس شہر میں نہ کوئی داخل ہو اور نہ کوئی اس شہر سے باہر جائے۔ پہلا کام چینیوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث پاک پر عمل سے شروع کیا۔ اور اس وباء کو چین سے بھگانے کے لئے دعائیں کروائیں۔ حالانکہ چین معاشی اور افرادی لحاظ سے دنیا کی سپر طاقت ہے۔انہوں نے بھی کرونا سے لڑنے کو ترجیح نہیں دی۔کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ اور ہمارے گناہوں کی سزا ہو سکتی ہے۔ اور چینی حکومت نے اعلان کیا کہ آج سے حلال اور حرام میں تمیز کی جائے گی۔ یعنی چین میں سور۔کتا۔بلی۔چمگادڑ۔اور بہت سی حرام چیزیں کھائی جاتی تھیں۔ انہیں منع کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اعلان کیا گیا ہے کہ جن چیزوں کو اسلام کھانے کی اجازت دیتا ہے۔ وہ استعمال کی جائیں اور جن سے منع فرماتا ہے۔ ان سے پرہیز کریں یہ تھا کرونا سے بچنے کا طریقہ کہ چینیوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لی۔
امریکہ برطانیہ اور یورپ کے لوگ خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگے تھے۔ ان کے بقول ہم نے ایٹم بم سے بچنے کے طریقے بھی ایجاد کر لئے ہیں۔ اب ہمیں کسی خوف اور آفت کا فکر نہیں۔امریکہ کا حرامی بچہ اسرائیل جو فلسطینیوں پر ہر وقت ظلم و ستم کا بازار گرم رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ بچوں، بوڑھوں اور عورتوں پر بھی ظلم سے بعض نہیں آتے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ وباء کسی مظلوم کی آہ و زاری کا نتیجہ ہے۔ غور سے دیکھیں کہ جہاں بے حیائی اور بے راہروی اور مسلمانوں پر ظلم زیادہ ہے وہاں متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اور اموات کی شرع بھی انتہائی بلند ہے۔ یہ وہ ملک ہیں جنہوں نے کشمیریوں اور فلسطینیوں کا مذاق اُڑایا۔ اور شامیوں پر ظلم کئے۔ ان کو بھی اپنی پالیسیوں کو دھرانا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی ہو گی۔ ورنہ ان پر سے یہ عذاب ٹلنے والا نہیں۔
مسلمانوں کو کیسے حکمرانوں کی ضرورت ہے۔ حضرت عمر ؓ کے دور میں صحابہ نے شکائت کی کہ دریا بھر گیا ہے۔ آپ ؓ نے دریا کو خط لکھا۔ کہ کیا عمرؓ زمین پر انصاف نہیں کر رہا۔ اور صحابہ ؓ سے کہا کہ اسے دریا میں جا کر پھینک دو۔ خط کا دریا میں پھینکنا تھا کہ دریا کی لہریں ختم ہو گئیں۔ اور دریا معمول پر آ گیا۔
پہلی صدی ہجری عقبہ بن نافع ؓ ، چند صحابیوں ؓ اور تابعین کی خواہش ہوئی کہ شمالی افریقہ میں کوفہ، بصرہ اور مدینہ کی طرح کا شہر آباد کیا جائے صحابہ کرامؓ اور تابعین نے علاقے کا جا ئزہ لیا۔ پہاڑوں کے دامن میں ایک علاقہ جہاں زندگی کے آثار پورے تھے۔ مگر جنگلی جانور وں میں شیر چیتے بھی۔لوگوں کی جان ضائع ہونے کا خطرہ بھی تھا مگر شہر تو بسانا تھا۔ حکمران کے ایمان کی طاقت دیکھو۔ جنگلی جانوروں کو لکھتے ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سپہ سالار عقبہ بن نافع کی طرف سے جو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے جہاد کرنے اور یہاں اللہ کو کلمہ بلند کرنے آیا ہے۔ اے جنگل کے جانورو اور درندو، ہم اسعلاقے میں مسلمان مجاہدین کا شہر بسانا چاہتے ہیں۔ تم بھی اللہ کی مخلوق ہو اور ہم بھی اللہ کا حکم نافذ کرنے نکلے ہیں۔ لہٰذ ا اللہ کے نام پر میری التجا ہے۔ کہ تم سب درندے یہاں سے نکل جاؤ۔ یہ خط لکھ کر عقبہ ؓ نے کہا کہ جنگل میں جا کر کسی درخت پر آویزاں کر دو۔ ایسا کر دیا گیا۔روائت ہے کہ تین دن تک وہاں سے جانور نکلتے رہے۔ شیرنیوں سمیت کئی جانور دیکھے گئے۔ کہ ان کے منہ میں ان کے بچے تھے۔ اور وہ سب نکل کر جنگل خالی کر رہے تھے۔ تین دن میں جنگل خالی ہو گیا۔ اور وہاں قروان شہر کی آبادی شروع کر دی گئی۔ یہ شہر اسی علاقے میں پہلا اسلامی شہر تھا۔ اور علم کا مرکز بنا۔ اور اگر آج بھی کوئی مرد مجاہد یا سپہ سالار کرونا سے التجا کرے کہ اے کرو نا تیرا اور ہمارا رب ایک ہے۔ تجھے اللہ نے اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہے۔ اس لئے کہ اللہ کی زمین ظلم سے بھر گئی۔ انکاریت کلچر بن گئی۔ الحاد کی تبلیغ زوروں پر۔ زمینی طاقت کے بل بوتے پر انسان خود کو نا قابل شکست سمجھنے لگا۔ خدا کی دی ہوئی عقل سے خدا کو ہی چیلنج کرنے لگا۔ مریخ، چاند اور سمندروں کو مسخر کرنے کے بعد خود کو خدا کا نائب سمجھنے کی بجائے فرعون بن بیٹھا۔ انسانی آبادیاں خون میں نہلا دیں۔ اور مخلوق پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ تب اے کرونا تو ہمیں ہماری اوقات بتانے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ آؤ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں سے معافی کی التجا کریں۔ پچھلے دنوں چوہدری شجاعت حسین نے بہت بہترین فارمولا دیا تھا۔ کہ وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف مدینہ منورہ جائیں اور اپنی گستاہیوں کی معافی مانگیں۔ اللہ تعالیٰ اس وباء کو دور فرمائیں۔ آمین

عابد خان لودھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
وحید احمد کی ایک اردو نظم