اظہر عباس – شعری دشت کا تنہا مسافر
از ڈاکٹر دانش عزیز
بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
"اظہر عباس خان شعری دشت کا تنہا مسافر”
اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کے نعتی اشعار میں مدینہ منوّرہ کی خوشبو، حضورِ اکرم ﷺ سے عقیدت اور روحانی سرشاری کا ایک گہرا اور مؤثر جذبہ نمایاں ہے۔ شاعر نے نعت کے دائرے میں ایک ایسا وجدانی تجربہ پیش کیا ہے جو محض عقیدت نہیں بلکہ عرفانی شعور کی جھلک ہے:
پِھر آئی نَکیرَین کو خُوشبُوئے مَدِینہ
اُترا جو لَحد میں دِلِ یَکسُوئے مَدِینہ
یہ شعر قبر اور مدینہ کے بیچ ایک ماورائی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں ایمان کی وہ لطافت بولتی ہے جو مومن کے دل سے نکل کر عالمِ برزخ تک پھیل جاتی ہے۔ شاعر کا اندازِ بیان متانت اور تخیّل دونوں سے آراستہ ہے۔ اسی نعت میں وہ عقیدت کے انتہائی درجے کو یوں بیان کرتے ہیں:
بِن مانگے عَطا، دُنیا بھی جَنّت بھی خُدا بھی
کافِی ہے مُجھے اِک یَہی خُوئے مَدِینہ
یہاں شاعر کا عرفانی شعور واضح ہے۔ نعت اب صرف مدح نہیں بلکہ محبت اور فنا کا تجربہ بن جاتی ہے، جہاں مدینہ کا ذکر خود قربِ الٰہی کا مترادف ہے۔
اظہر عباس کی فکری جہت کا دوسرا رخ ان کے سلامیہ کلام میں نظر آتا ہے، جہاں کربلا کی ریت، حُرؓ کی توبہ، اصغرؓ کی شہادت اور زینبؓؓ کا صبر ایک ساتھ بولتے ہیں۔ شاعر کے الفاظ خواب اور حقیقت کی درمیانی لکیر مٹا دیتے ہیں:
خُود کو کَربَل میں دیکھا تھا پَہُنچا ہُوَا،
حُر نے مُجھ سے کہا: مَرحَبَا مَرحَبَا
تِیر لَگنے کو تھا، آنکھ ہی کھُل گئی،
خَواب کی تُو مِرے واٹ ہی لَگ گئی
یہ شعر وجدانی کیفیت کا مظہر ہے، جہاں عاشورہ کا منظر شاعر کے لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسی سلام میں ایک فکری طنز اور روحانی سوال بھی جھلکتا ہے:
قَتلِ اَصغَرؓ پہ کوئی نَدامَت نہیں
پَر نَمازوں میں پَڑھتے ہیں صَلِّ عَلَیٰ
یہاں اظہر عباس امتِ مسلمہ کے تضاد پر نگاہ ڈالتا ہے۔ عقیدت اور غفلت کے اس امتزاج کو وہ علامتی انداز میں عیاں کرتا ہے۔
اظہر عباس خان کی غزل گوئی ان کے فنی شعور کی سب سے پختہ مثال ہے۔ ان کی غزلوں میں تغزّل، محاوراتی صفائی، صوتی آہنگ اور معنوی گہرائی ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ ان کے اشعار عشق، عقل اور عرفان کے بیچ ایک لطیف توازن قائم کرتے ہیں:
کسی کے آنے کے کامِل یَقِیں پہ چلتا ہے
یہ دِل ابھی بھی مُحَبَّت کے دِیں پہ چلتا ہے
یہاں ’’یقین‘‘ اور ’’محبت‘‘ کے مابین تعلق کا بیانیہ صوفیانہ رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ اسی غزل میں شاعر عقل و خرد کے تکبّر کو یوں چیلنج کرتا ہے:
مَجال ہے جو کبھی آئے اَہلِ دِل کی طرف
خِرَد کا زور ہمیشہ ذِہیں پہ چلتا ہے
یہ شعر ایک فکری مزاحمت ہے جو جدید انسان کے روحانی زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔ غزل کا لہجہ سنجیدہ، مگر بیان سادہ اور پراثر ہے۔
اظہر عباس کی زبان میں ایک خاص شستگی اور مٹھاس ہے۔ وہ نہ غیرضروری لفاظی میں الجھتے ہیں نہ سطحی سادگی میں پناہ لیتے ہیں۔ ان کے مصرعے فصاحت اور بلاغت کے حسین امتزاج ہیں۔ روزمرہ کے لفظ بھی ان کے ہاں علامت بن جاتے ہیں۔
اظہر عباس کے عرفانی شعور کا نقطۂ عروج ان کی مشہور غزل ’’دیارِ عشق سے آئی نداءِ کن فیکون‘‘ میں نظر آتا ہے، جہاں تخلیقِ کائنات کو عشق کی قوت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
دِیارِ عِشق سے آئی نِداءِ کُن فَیَکُون
سو خُود کو پیش کیا ہے بَرائے کُن فَیَکُون
یہاں شاعر اپنے آپ کو تخلیقی نظام کا جزو سمجھتا ہے۔ اس غزل میں فلسفیانہ عمق کے ساتھ وجدانی کیفیت بھی موجود ہے۔ وہ ایک اور مقام پر کہتا ہے:
جہان کچھ بھی نہیں ہے سِوائے کُن فَیَکُون
اور پھر ایک فلسفیانہ سوال اٹھاتا ہے:
مُجھے بَتا مِرے عادِل کہ مَیں تو تھا ہی نہیں
تو پِھر مَیں کس لیے بَھگتوں سَزائے کُن فَیَکُون؟
یہ اشعار وجود، تقدیر اور خودی کے پیچیدہ رشتے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کے ہاں یہ سوالات نہ صرف فکری ہیں بلکہ ایک روحانی جستجو کا حصہ بھی ہیں۔
اظہر عباس خان کے یہاں کلاسیکی روایت کی جڑیں گہری ہیں۔ ان کے ہاں میر و غالب کی دردمندی، اقبال کی خودی، اور جگر مرادآبادی کی نرمی کے اثرات نظر آتے ہیں، مگر وہ تقلید نہیں کرتے۔ وہ روایت سے روشنی لے کر اپنی تخلیقی راہ تراشتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مصرعے آج کے قاری کے احساس سے ہم آہنگ معلوم ہوتے ہیں:
کہاں گُلاب، کہاں پر مِرے گُلال کے رُخ
یہ مصرعہ صرف رنگ کی بات نہیں کرتا بلکہ تخلیق اور تجربے کی حد بندیوں کو توڑ دیتا ہے۔ ان کی زبان میں زمان و مکان کی قید نہیں، بلکہ جذبے کی روانی ہے۔
شاعر کے مزاج میں متانت، تفکّر اور روحانی وقار نمایاں ہے۔ ان کے ہاں جذبے کی شدت کے باوجود اظہار کا ضبط قائم رہتا ہے۔ عشق کے تجربے کو وہ عقل کے تابع نہیں کرتے بلکہ دونوں کے درمیان ایک فنی توازن پیدا کرتے ہیں۔ جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں:
لِٹا کے اَپنی اَناؤں کو پائمال کے رُخ
جَبینِ وَصل گھُمائی تِرے خَیال کے رُخ
یہاں ’’اناؤں‘‘ کا ذکر محض نفسیاتی علامت نہیں بلکہ عرفانی صداقت کا استعارہ ہے۔ شاعر فنا اور بقا کے اس تصادم کو داخلی سکون میں بدل دیتا ہے۔
اظہر عباس خان کی شاعری روایت اور جدیدیت کے سنگم پر کھڑی ہے۔ ان کے کلام میں عقیدت بھی ہے، احتجاج بھی؛ وجد بھی ہے، شعور بھی۔ مدینہ سے کربلا تک، عشق سے عقل تک، یقین سے سوال تک — یہ سارا سفر ان کی شاعری میں نہایت نفاست سے طے ہوتا ہے۔ وہ اُن شعرا میں سے ہیں جو لفظ کے پردے میں جذبے کی حرارت، خیال کے بطن میں ایمان کی روشنی، اور شعر کے آہنگ میں دل کی دھڑکن چھپا دیتے ہیں۔
ان کے اشعار صرف پڑھے نہیں جاتے، محسوس کیے جاتے ہیں۔
ان میں سوز بھی ہے، سکون بھی؛سچائی بھی ہے، لطافت بھی۔
اظہر عباس خان کی شاعری اردو ادب کے اس تسلسل کی تازہ قندیل ہے جو میر سے غالب، غالب سے اقبال، اور اقبال سے آج تک دلوں کے آبگینوں میں سلسلہ در سلسلہ روشن چلی آرہی ہے
ڈاکٹر دانش عزیز








