آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریضیا مذکور

آخری آندھی نے سب کچھ پہلے جیسا کر دیا

ضیا مذکور کی ایک اردو غزل

آخری آندھی نے سب کچھ پہلے جیسا کر دیا
پردے میلے کر دیے قالین گندا کر دیا

میرے سارے لوگ رفتہ رفتہ اس کے ہو گئے
مجھ کو اس کی محفلوں نے اور تنہا کر دیا

آسمانوں سے ستارے اور قبروں سے گلاب
مجھ سے پوچھو میں نے اس کو کیا نہیں لا کر دیا

پہلے اس کو لے کے اس دنیا میں کتنا جھوٹ ہے
کیا ہوا میں نے اگر تھوڑا اضافہ کر دیا

آج سے کچھ سال پہلے ایک جتنی عمر تھی
وقت نے اس کو جواں اور مجھ کو بوڑھا کر دیا

راہ سے پتھر ہٹایا اور بخشش ہو گئی
بندہ پوچھے اس نے آخر ایسا بھی کیا کر دیا

جانے کس کا تذکرہ مذکور کے منہ سے سنا
جانے اس ظالم نے ہم کو کس کا رسیا کر دیا

ضیا مذکور

post bar salamurdu

ضیا مذکور

نام ضیاءالقمر قلمی نام ضیا مذکور آبائی شہر بہاول پور تعلیم بی اے آنرز انگریزی پیشہ لیکچرار انگریزی ایم ٹی بی کالج صادق آباد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button