ایشیا کپ کا فائنل۔ شکست، مینجمنٹ اور ہڈ دھرمی
گزشتہ رات ایشیا کپ کا فائنل پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا گیا، جہاں ایک بار پھر پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اس ایشیا کپ میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی تیسری لگاتار شکست تھی۔ اس صورتحال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آخر ہماری ٹیم مینجمنٹ کر کیا رہی ہے؟
اصل مسئلہ مجھے ٹیم مینجمنٹ میں نظر آتا ہے۔ ایسے کھلاڑیوں کو مسلسل کھلایا جا رہا ہے جن کی کوئی پرفارمنس نہیں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ٹیم فائنل تک پہنچی کیسے؟ اس وقت سب سے بڑی ضرورت ہے کہ بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں۔
حسین طلعت جیسے کھلاڑی جنہوں نے بار بار مایوس کیا ہے، انہیں فوری طور پر ٹیم سے باہر ہونا چاہیے۔ اسی طرح موجودہ کپتان خواجہ سلمان ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے کھلاڑی ہی نہیں ہیں۔ وہ ایک اچھے ون ڈے پلیئر ہیں لیکن ٹی ٹوئنٹی میں ان کی موجودگی نہ صرف ٹیم کے لیے بوجھ ہے بلکہ مینجمنٹ کی کمزوری کی علامت بھی۔ ان کے ساتھ ساتھ صائم ایوب، جس سے بہت توقعات وابستہ تھیں، مکمل طور پر ناکام رہے۔ وہ باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور مستقبل میں اچھا کھیل سکتے ہیں، لیکن اس وقت ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ انہیں ڈومیسٹک لیول پر واپس بھیجا جائے تاکہ وہ اپنی خامیوں پر قابو پائیں اور پھر واپس قومی ٹیم کا حصہ بنیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ ٹیم میں سفارشی کھلاڑی موجود ہیں، جو ”پرچیوں” پر شامل کیے گئے ہیں۔ قومی ٹیم کسی سفارش کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر پاکستان کو جیتانا ہے تو سب سے پہلے سفارش کلچر کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا۔
دوسری جانب، فخر زمان اور صاحبزادہ فرحان وہ کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انہی کی بدولت پاکستان کا سکور اس سطح تک پہنچا کہ میچ میں مقابلہ کیا جا سکا۔ لیکن بدقسمتی سے جب یہ بوجھ مڈل آرڈر پر آیا تو سب کچھ زمین بوس ہوگیا۔
بھارت کے مقابلے میں پاکستان ٹیم آج ایک ڈومیسٹک لیول کی ٹیم دکھائی دیتی ہے۔ اگر ہم واقعی بھارت یا دیگر بڑی ٹیموں سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہوگا۔ بھارت میں کرکٹ ایک مذہب کی طرح کھیلی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں کھلاڑیوں کی ایسی کثرت ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ کس کو کھلائیں اور کس کو باہر رکھیں۔ یہی ان کی طاقت ہے اور یہی ہماری کمزوری۔
اس میچ کے بعد ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ بھارتی ٹیم نے ٹرافی لینے کے موقع پر صدرایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ رویہ کھیل کے تقدس کے خلاف تھا اور کرکٹ کی تاریخ کا ایک بدترین لمحہ ثابت ہوا۔ کھیل کے میدان میں سیاست یا ہٹ دھرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، لیکن بھارتی ٹیم نے اپنی ہٹ دھرمی سے دنیا بھر کے شائقین کو مایوس کیا۔
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں سنجیدہ فیصلے کیے جائیں۔ میرٹ کو بنیاد بنایا جائے، سفارشی کھلاڑیوں کو ہمیشہ کے لیے باہر کیا جائے، اور ایک ایسا ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جس پر ایک مضبوط قومی ٹیم کھڑی ہو سکے۔
کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک قومی جذبہ ہے، اور اگر ہم اس جذبے کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو قوم کا بوجھ کندھوں پر اٹھا سکیں، نہ کہ وہ جو سفارش کے سہارے قومی پرچم کے نیچے کھڑے ہوں۔
زاہد محمود خان








