آخرِ کار ہو گیا تھا میں
یعنی آزار ہو گیا تھا میں
وقت رستے میں آ گیا ورنہ
تیز رفتار ہو گیا تھا میں
میری تفہیم کر رہا تھا چراغ
اتنا تہ دار ہو گیا تھا میں
عکس پانی میں بہہ گیا میرا
اور نمو دار ہو گیا تھا میں
ورنہ دنیا بدل گئی ہوتی
جلد بیدار ہو گیا تھا میں
کوئی تتلی سی چھو گئی تھی مجھے
رنگ آثار ہو گیا تھا میں
مجھ سے پنچھی بھی بولنے لگے تھے
نرم گفتار ہو گیا تھا میں
عدنان سرمد








