آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمظفر ڈھاڈری بلوچ
اک شامِ غم کے سائے میں
مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل
اک شامِ غم کے سائے میں رہ کر پلا ہوں میں
اندر کڑکتی دھوپ تھی، پہروں جلا ہوں میں
کوشش بھی کر کے دیکھ نہیں جان پائے گا
آساں سمجھ نہ مجھ کو بڑا مسئلہ ہوں میں
آنکھیں غزال تیری، بدن ہے کمال کا
وش رنگ تجھ پہ جان فدا کر چلا ہوں میں
جاری ہے جنگ مجھ میں یزید و حسین کی
انساں کے روپ میں ہوں مگر کربلا ہوں میں
وحشت، جنون، صدمے، جدائی ہے ساتھ میں
تنہا نہیں ہوں دیکھ، مجھے قافلہ ہوں میں
بس شاعروں کے حلقے میں جانے کو چھوڑ کر
یارو! سنا ہے آدمی اچھا بھلا ہوں میں
مستؔ و مریدؔ جیسے ہزاروں نگل لیے
کہتے ہیں مجھ کو عشق، مظفرؔ بلا ہوں میں
مظفرؔ ڈھاڈری








