آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہطاہرہ فاطمہ

کیوں سے کہاں تک

طاہرہ فاطمہ کی ایک اردو تحریر

کبھی کبھی قرآن کی چند آیات انسان کے اندر ایک پوری دنیا کھول دیتی ہیں۔ میرے لیے سورۃ البقرۃ کی آیات 155 سے 158 ایسی ہی آیات ہیں۔
اللہ تعالیٰ پہلے فرماتے ہیں:
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ
خوف۔ بھوک۔ نقصانِ مال۔ نقصانِ جان۔ نقصانِ ثمرات۔
پھر اللہ صبر کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ
اور اس کے فوراً بعد:
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ
پہلی نظر میں یہ ربط عجیب لگتا ہے۔ صبر کی بات کے فوراً بعد صفا اور مروہ کیوں؟
لیکن آج مجھے محسوس ہوا کہ شاید اللہ صبر کی صرف تعریف نہیں کر رہے۔۔۔ وہ صبر کی ایک زندہ تصویر دکھا رہے ہیں۔ وہ تصویر حضرت حاجرہؑ ہیں۔ کیونکہ سورۃ البقرۃ کی ان آیات میں جن آزمائشوں کا ذکر ہے، حضرت ہاجرہؑ نے ان سب کو جیا تھا۔
خوف؟ ایک سنسان وادی میں تنہا چھوڑ دیا جانا۔
بھوک اور پیاس؟ اپنے شیرخوار بچے کو تڑپتے دیکھنا۔
نقصان؟ ہر لمحہ یہ اندیشہ کہ شاید اب زندگی باقی نہ رہے۔
لیکن یہاں ایک سوال حیرت انگیز ہے کہ حضرت ہاجرہؑ نے حضرت ابراہیمؑ سے "کیوں” نہیں پوچھا؟
ذرا تصور کریں: آپ کا شوہر آپ کو اور آپ کے بچے کو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں چھوڑ کر واپس جا رہا ہے۔ وہ پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھتا۔ آپ آواز دیتی ہیں۔ وہ خاموش رہتا ہے۔
پھر آپؑ صرف ایک سوال پوچھتی ہیں: "کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟”
اور جب جواب "ہاں” میں ملتا ہے، تو آپؑ کہتی ہیں: "پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔”
میں سوچتی ہوں۔۔۔ حضرت حاجرہؑ نے "کیوں” کیوں نہیں پوچھا؟
کیوں میں؟ کیوں یہ صحرا؟ کیوں یہ تنہائی؟ کیا اللہ مجھ سے ناراض ہے؟ کیا میں سزا کی مستحق ہوں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت ہاجرہؑ ہم سے مختلف ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ آج کا انسان سب سے پہلے یہی پوچھتا ہے: "میرے ساتھ ہی کیوں؟”
نوکری چلی جائے: میرے ساتھ ہی کیوں؟
رشتہ ٹوٹ جائے: میرے ساتھ ہی کیوں؟
بیماری آ جائے: میرے ساتھ ہی کیوں؟
دعائیں دیر سے قبول ہوں: میرے ساتھ ہی کیوں؟
ایسا لگتا ہے جیسے ہماری پوری نسل "میرے ساتھ ہی کیوں؟” کے گرد گھوم رہی ہے۔
ہم نے درد کو بیان کرنا سیکھ لیا ہے۔ اپنی ٹوٹن کو لفظوں میں ڈھال لیا ہے۔ اپنی تکلیف کو شاعری، تحریروں، نعروں اور آگاہی میں بدل لیا ہے۔ لیکن شاید ہم نے ایک چیز کھو دی ہے: صبر۔ کیونکہ صبر خاموشی کا نام نہیں۔ صبر سوال بدل جانے کا نام ہے۔
حضرت ہاجرہؑ نے "کیوں” نہیں پوچھا۔ انہوں نے ایک اور سوال پوچھا:
"کہاں ہے؟”
پانی کہاں ہے؟
رحمت کہاں ہے؟
اللہ کی مدد کہاں سے آئے گی؟
اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں مظلوم اور متلاشی الگ ہو جاتے ہیں۔
"میرے ساتھ ہی کیوں؟” بند دروازے کے سامنے بیٹھ کر رونے کا نام ہے۔ "کہاں ہے؟” دروازہ تلاش کرنے کا نام ہے۔
"میرے ساتھ ہی کیوں؟” ماضی سے چمٹ جانا ہے۔ "کہاں ہے؟” مستقبل کی طرف بھاگنا ہے۔
"میرے ساتھ ہی کیوں؟” انسان کو بےبس بنا دیتا ہے۔ "کہاں ہے؟” انسان کو اللہ کی طرف حرکت میں لے آتا ہے۔
حضرت ہاجرہؑ مظلوم بن کر نہیں بیٹھیں۔ وہ متلاشی بنیں۔ اور اسی لیے اللہ نے ان کی دوڑ کو قیامت تک عبادت بنا دیا۔
یہاں ایک اور حیرت انگیز بات ہے۔ اللہ فرماتے ہیں:
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ
یہاں کسی نبی کا نام نہیں۔ کسی رسول کا ذکر نہیں۔ کسی مرد کا حوالہ نہیں۔ یہاں صرف ایک عورت ہے۔ ایک ماں۔ جو بھاگی۔
حضرت حاجرہؑ نے کوئی کتاب نہیں لکھی۔ کوئی لشکر کی قیادت نہیں کی۔ کوئی خطبہ نہیں دیا۔ کوئی ظاہری معجزہ نہیں دکھایا۔ وہ صرف صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی رہیں۔ اور اللہ نے اس دوڑ کو اپنی نشانی بنا دیا۔ قیامت تک۔ حج اور عمرے کا حصہ بنا دیا۔ یہ سوچ کر دل کانپ جاتا ہے کہ دنیا کی نظر میں شاید وہ ایک بےقرار عورت تھیں۔۔۔ لیکن اللہ کی نظر میں وہ "شعائر اللہ” بن گئیں۔
او اس میں ہم سب کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں انسان کی قدر اس کی شہرت سے ناپی جاتی ہے۔ کتنے لوگ جانتے ہیں؟ کتنی تعریف ملتی ہے؟ کتنی پہچان حاصل ہوتی ہے؟ لیکن حضرت ہاجرہؑ کی کہانی سکھاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک اخلاص، شہرت سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ جدوجہد جو کسی انسان نے نہ دیکھی ہو۔۔۔ اللہ اسے بھی امر کر سکتا ہے۔
اور میرے لیے سب سے حیرت انگیز لمحہ ساتواں چکر ہے۔ چھ مرتبہ دوڑنے کے بعد بھی کچھ نہیں بدلا تھا۔ افق وہی خالی تھا۔ آسمان وہی خاموش تھا۔ بچہ اب بھی پیاسا تھا۔ عقل کہتی تھی: "بس کرو۔”
لیکن وہ ساتویں بار بھی بھاگیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں منطق ختم ہو جاتی ہے اور توکل شروع ہوتا ہے۔ جہاں امید صرف ایک احساس نہیں رہتی۔۔۔ بلکہ عبادت بن جاتی ہے۔ ساتواں چکر وہ ہوتا ہے جب: کوئی نشانی نہیں ہوتی، کوئی تسلی نہیں ہوتی، کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی، اور پھر بھی انسان اللہ کی طرف حرکت جاری رکھتا ہے۔ کیونکہ اب اسے سمجھ آ جاتا ہے: میرا کام بھاگنا ہے۔ نتیجہ اللہ کا کام ہے۔
اور پھر سب سے حیرت انگیز بات ہوئی۔ زمزم حضرت ہاجرہؑ کی دوڑ سے نہیں نکلا۔ زمزم حضرت اسماعیلؑ کی ایڑیوں سے نکلا۔
گویا اللہ یہ سکھا رہے تھے: تم صفا اور مروہ مکمل کرو۔ زمزم کہاں سے نکالنا ہے، یہ میرا کام ہے۔
اور ہماری زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ کبھی ہماری سعی کا نتیجہ ہماری زندگی میں نہیں۔۔۔ ہماری نسلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ کبھی ہماری قربانی سے ہمارے بچوں کو زمزم ملتا ہے۔ کبھی ہماری دعا سے آنے والوں کی تقدیر بدلتی ہے۔ اور تب انسان سمجھتا ہے: کوئی مخلصانہ دوڑ کبھی ضائع نہیں جاتی۔
یہی وہ سبق ہے جو حج کا موسم ہمیں ہر سال یاد دلاتا ہے۔ سپردگی یہ نہیں کہ انسان ہر چیز سمجھ لے۔ سپردگی یہ ہے کہ انسان صحرا میں بھی اللہ پر بدگمان نہ ہو۔
اور قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں۔ کبھی قربانی اپنی بےصبری کی ہوتی ہے۔ کبھی اپنے خوف کی۔ کبھی اپنے "میرے ساتھ ہی کیوں؟” کی۔
اور ایمان یہی ہے: صفا اور مروہ کے درمیان بھاگتے رہنا۔۔۔ یہ یقین رکھتے ہوئے کہ زمزم ابھی نظروں سے اوجھل ہے، غائب نہیں۔

طاہرہ فاطمہ

post bar salamurdu

طاہرہ فاطمہ

طاہرہ فاطمہ، فکر و تدبر کے سفر میں ایک راہرو۔ قرآن میرا محور، فکر میرا سفر، اور تحریر میرا وسیلہ ہے۔۔۔ سمجھنے، جینے، اور بانٹنے کے لیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button