آپ کا سلاماردو غزلیاتارم زہراشعر و شاعری

کیسے بناؤں ہاتھ پہ تصویر خواب کی

ارم زہرا کی ایک اردو غزل

کیسے بناؤں ہاتھ پہ تصویر خواب کی
مجھ کو ملی نہ آج بھی تعبیر خواب کی

آنکھوں سے نیند روٹھ کے جانے کدھر گئی
کٹتی نہیں ہے رات کو زنجیر خواب کی

جس شہر میں ہو خواب چرانے کی واردات
کیسے کروں وہاں پہ میں تشہیر خواب کی

خوابوں نے ہر قدم پہ مجھے حوصلہ دیا
دیکھی نہیں ہے تم نے کیا تاثیر خواب کی

کب تک رہے گی تیرگی تیرے خیال میں
روشن کرے گی اس کو بھی تنویر خواب کی

اس دن تو میرے خوابوں کو پہچان جاؤ گے
جس دن لکھے گا کوئی بھی تفسیر خواب کی

خوابوں کو ہی ارمؔ نے اثاثہ بنا لیا
رہنے دو میرے پاس یہ جاگیر خواب کی

ارم زہرا

post bar salamurdu

ارم زہرا

شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں نسائی لب و لہجے کی توانا آواز ہیں شاعری افسانے سفرنامے اور کراچی کی تاریخ پر کتابیں کامیابی کے مراحل طے کر چکی ہیں-ارم زہرا روشنیوں کے شہر کراچی میں 8 دسمبر کو پیدا ہوئی ہیں ۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کی شخصیت تہہ در تہہ ہے اور ہر تہہ اپنے اندر ایک بھر پور حوالہ رکھتی ہے۔ ناول نگار،افسانہ نگار،کالم نگار، کہانی کار اور شاعر ہ کی حیثیت سے ہر پہلو مکمل اکائی ہے۔ان کی تخلیقات میں جذبوں کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے ۔ان کی تحریر یں قاری کو فکروعمل کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے جس کا یہ پوری طرح حق اداکر رہی ہیں ۔ان کے کالموں میں تعلیمی مسائل کو احسن انداز میں اجاگرکیا جاتا ہے۔ ارم زہراء مختلف میگزین میں ایڈیٹنگ اور ٹی وی پہ ہوسٹنگ کے فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔ان کی اب تک چار کتب۔جن میں نثر میں چاند میرامنتظر “،” میرے شہر کی کہانی“،” ادھ کھلا دریچہ “ ’’اُف اللہ ‘‘جبکہ شعری دل کی مسند“ کتاب گھروں کی زینت بن چکے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button