اردو غزلیاتجمیل الدین عالیشعر و شاعری
بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
جمیل الدین عالی کی ایک اردو غزل
بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
کوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو
سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہے
کہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو
کرم پہ آئیں تو ہر ہر ادا میں عشق ہی عشق
نہ ہو تو ان کا تغافل بھی آشکار نہ ہو
یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں
کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو
ابھی ہے آس کہ آخر کبھی تو آئے گا
وہ ایک لمحہ کہ جب تیرا انتظار نہ ہو
بہت فریب سمجھتا ہوں پھر بھی اے عالیؔ
میں کیا کروں اگر ان پر بھی اعتبار نہ ہو
جمیل الدین عالی








